مسیحی انفاس — Page 41
۴۱ میسج جس کو خدا بنایا جاتا ہے اس کی تو کچھ پوچھو ہی نہیں۔ساری عمر پکڑ دھکڑ میں گزری اور ابن آدم کو سر دھرنے کی جگہ ہی نہ ملی۔اخلاق کا کوئی کامل نمونہ ہی موجود نہیں تعلیم ایسی ادھوری اور غیر مکتفی کہ اس پر عمل کر کے انسان بہت نیچے جاگرتا ہے۔حات۔۲۷ وہ کسی دوسرے کو اقتدار اور عزت کیا دے سکتا ہے۔جو اپنی بے بسی کا خود شاکی عیسائیوں کے خدا کی ہے، اوروں کی کیا سن سکتا ہے۔جس کی اپنی ساری رات کی گریہ وزاری اکارت گئی اور چلا چلا کر ایلی ايلى لما سبقتاني بھی کہا مگر شنوائی ہی نہ ہوئی اور پھر اس پر طرہ یہ کہ آخر یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر لٹکا دیا۔اور اپنے اعتقاد کے مطابق ملعون قرار دیا۔خود عیسائیوں نے لعنتی مانا۔مگر یہ کہہ دیا کہ ہمارے لئے لعنتی ہوا۔حالانکہ لعنت ایسی چیز ہے کہ انسان اس سے سیاہ باطن ہو جاتا ہے۔اور وہ خدا سے دور اور خدا اس سے دور ہو جاتا ہے۔گویا خدا سے اس کو کچھ تعلق نہیں رہتا۔اس لئے ملعون شیطان کا نام بھی ہے۔اب اس لعنت کو مان کر اور مسیح کو ملعون قرار دے کر عیسائیوں کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے۔لعنت نال لکھ نہیں رہندا۔ملفوظات۔جلد ا صفحہ ۳۳۰ نیز دیکھیں نور القرآن حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۴،۳۵۳ حاشیه و ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۳۹ تا ۱۴۱ رایک پادری مسیح کو خدا کہتے ہوئے ایک دانشمند شخص کو اس حقیقی خدا پر ایمان ۲۸ رکھنے سے برگشتہ کر سکتا ہے جس کی ذات مرنے اور مصیبتوں کے اٹھانے اور دشمنوں مسیح کا معجز و اضطرار کے ہاتھ میں گرفتار ہونے اور پھر مصلوب ہو جانے سے پاک ہے اور جس کا جلالی نام عیسائیوں کے لئے قانون قدرت کے ہریک صحیفہ میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ہم نے خود بعض منصف مزاج باعث ندامت ہے۔عیسائیوں سے خلوت میں سنا ہے کہ جب ہم کبھی مسیح کی خدائی کا بازاروں میں وعظ کرتے ہیں تو بعض وقت مسیح کے بحجر اور اضطرار کی سوانح پیش نظر آجانے سے بات کرتے کرتے ایسا انفعال دل کو پکڑتا ہے کہ بس ہم ندامت میں غرق ہی ہو جاتے ہیں۔غرض انسان کو خدا بنانے والا کیا وعظ کرے گا اور کیونکر اس عاجز انسان میں اس قادر خدا کی عظمت کا