مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 632

مسیحی انفاس — Page 40

الوہیت ہیں۔نہیں ایک عاجز انسان ہیں۔ہاں نبی اللہ بے شک ہیں۔عاجز دل ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں۔اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔قل ارايتم ما تدعون من دون الله ارونى ماذا خلقوا من الارض امر لهم شرك فى السموات ايتونى بكتاب من قبل هذا او اثارة من علم إن كنتم صادقين۔ومن اضل ممن يدعوا من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيمة وهم عن دعائهم غافلون یعنی کیا تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ٹھہرارہے ہو انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا اور یا ان کو آسمانوں کی پیدائش میں کوئی شراکت ہے۔اگر اس کا ثبوت تمہارے پاس ہے اور کوئی لاب ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ فلاں فلاں چیز تمہارے معبود نے پیدا کی تو لاؤ وہ کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو۔یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یونہی کوئی شخص قادر مطلق کا نام رکھالے اور قدرت کا کوئی نمونہ پیش نہ کرے اور خالق کہلائے اور خالقیت کا کوئی نمونہ ظاہر نہ کرے۔اور پھر فرماتا ہے کہ اس شخص سے زیادہ تر گمراہ کون شخص ہے کہ ایسے شخص کو خدا کر کے پکارتا ہے جو اس کو قیامت تک جواب نہیں دے سکتا۔بلکہ اس کے پکارنے سے بھی غافل ہے چہ جائیکہ اس کو جواب دے سکے۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۳۵ تا ۱۳۷ عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اسی طرح پر جس طرح عام انسان پیدا ہوتے ہیں۔اور کھاتا پیتا ہگتا موستا رہاوہ خدا ہے۔اب یہ تو ممکن خواص بشریہ مانع ہے کہ ایک شخص کو اس سے محبت ہو لیکن انسانی دانش کبھی یہ تجویز نہیں کرتی کہ ایسا کمزور اور نانواں انسان خدا بھی ہوتا ہے۔یا یہ کہ عورتوں کے پیٹ سے خدا بھی پیدا ہوا کرتے ہیں۔جبکہ پہلا ہی قدم باطل پر پڑا ہے تو دوسرے قدم کی حق پر پڑنے کی کیا امید ہو سکتی ہے۔جو شعاعیں زندہ خدا اور کامل صفات سے موصوف خدا کو مان کر دل پر پڑتی ہیں۔وہ ایک مرنے والی ہستی، ضعف و ناتوانی کی تصویر پرستی سے کہاں ؟؟؟ ملفوظات۔جلد ۲ صفحہ ۲۳۴