مسیحی انفاس — Page 560
۵۶۰ قریب المرگ ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ایک نئی شریعت ان پر نازل کی اور یہ اس آیت میں اشارہ ہے غرض یہ پیش گوئی ہے جس کی طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں کی۔ملفوظات جلد ۲ صفحه ۳۸۶٬۳۸۵ اب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توریت کی پیش گوئیوں پر نظر ڈالیں کہ رطیکہ حضرت موی کی پیش اگر چہ توریت کے دو مقام میں ایسی پیش گوئیاں ملتی ہیں کہ جو غور کرنے والوں پر بشرط گوئی (1) منفی کہ صلی منصف بھی ہوں ظاہر کرتے ہیں کہ در حقیقت وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارہ میں لکھی گئی ہیں۔لیکن حج بحثی کے لئے ان میں گنجائش بھی بہت ہے۔مثلاً توریت میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو کہا کہ خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی قائم کرے گا۔اس پیش گوئی میں مشکلات یہ ہیں کہ اسی توریت کے بعض مقامات میں بنی اسرائیل کو ہی بنی اسرائیل کے بھائی لکھا ہے اور بعض جگہ بنی اسمعیل کو بھی بنی اسرائیل کے بھائی لکھا ہے ایسا ہی دوسرے بھائیوں کا بھی ذکر ہے۔اب اس بات کا قطعی اور بدیہی طور پر کیونکر فیصلہ ہو کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے مراد فقط بنی اسماعیل ہی ہیں بلکہ یہ لفظ کہ ”تیرے ہی درمیان سے لکھا ہے زیادہ عبارت کو مشتبہ کرتا ہے اور کو ہم لوگ بہت سے دلائل اور قرائن کو ایک جگہ جمع کر کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ میں جو مماثلت ہے بہا یہ ثبوت پہنچا کر ایک حق کے طالب کے لئے نظری طور پر یہ بات ثابت کر دکھاتے ہیں کہ در حقیقت اس جگہ پیش گوئی کا مصداق بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی شخص نہیں لیکن یہ پیش گوئی ایسی صاف اور بدیہی تو نہیں کہ ہر ایک اجہل اور احمق کو اسکے ذریعہ سے ہم قائل کر سکیں۔بلکہ اس کا سمجھنا بھی پوری عقل کا محتاج ہے اور پھر سمجھانا بھی پوری عقل کا محتاج۔اگر خدائے تعالیٰ کو ابتلاء خلق اللہ کا منظور نہ ہوتا اور ہر طرح سے کھلے کھلے طور پر پیش گوئی کا بیان کرنا ارادہ الہی ہوتا تو پھر اس طرح پر بیان کرنا چاہئے تھا کہ اے موسیٰ میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں بنی اسماعیل میں سے ایک نبی پیدا کروں گا جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ ہو گا اور ان کے باپ کا نام عبد اللہ اور دادا کا نام عبد المطلب اور والدہ کا نام آمنہ ہو گا۔اور وہ مکہ شہر میں پیدا ہوں گے اور ان کا یہ حلیہ ہو گا۔اب ظاہر ہے کہ اگر ایسی کوئی و