مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 561 of 632

مسیحی انفاس — Page 561

۵۶۱ پیش گوئی توریت میں لکھی جاتی تو کسی کو چون و چرا کرنے کی حاجت نہ رہتی اور تمام شریروں کے ہاتھ پیر باندھے جاتے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۲،۲۴۱۔پادریوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے بارہ میں اس وجہ سے فکر پڑی کہ توریت کتاب استثنا باب هژدهم (۱۸) آیت بست و دوم (۲۲) میں نیچے نبی کی حضرت موسی کی پیش یہ نشانی لکھی ہے کہ اس کی پیش گوئی پوری ہو جائے۔سو جب پادریوں نے دیکھا کہ کوئی (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزار ہا خبریں قبل از وقوع بطور پیش ھوئی فرمائی ہیں اور اکثر پیش گوئیوں سے قرآن شریف بھی بھرا ہوا ہے اور وہ سب پیش گوئیاں اپنے وقتوں پر پوری بھی ہو گئیں تو ان کے دل کو یہ دھڑ کا شروع ہوا کہ ان پیش گوئیوں پر نظر ڈالنے سے نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بدیہی طور پر ثابت ہوتی ہے اور یا یہ کہنا پڑتا ہے کہ جو کچھ توریت میں یعنی کتاب استثنا ۱۸ باب ۲۱ ۲۲ آیت میں سچے نبی کی نشانی لکھی ہے وہ نشانی صحیح نہیں ہے سو اس بیچ میں آکر نہایت ہٹ دھرمی سے ان کو یہ کہنا پڑا کہ وہ پیش گوئیاں اصل میں فراستیں ہیں کہ اتفاقاً پوری ہو گئی ہیں لیکن چونکہ جس درخیت کی بیخ مضبوط اور طاقتیں قائم ہیں وہ ہمیشہ پھل لاتا ہے۔اس جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیش گوئیاں اور دیگر خوارق صرف اسی زمانہ تک محدود نہیں تھے بلکہ اب بھی ان کا برابر سلسلہ جاری ہے۔اگر کسی پادری وغیرہ کو شک و شبہ ہو تو اس پر لازم و فرض ہے کہ وہ صدق اور ارادت سے اس طرف توجہ کرے پھر دیکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں کس قدر اب تک بارش کی طرح برس رہی ہیں لیکن اس زمانہ کے متعصب پادری اگر خود کشی کا ارادہ کریں تو کریں مگر یہ امید ان پر بہت ہی کم ہے کہ وہ طالب صادق بن کر کمال ارادت اور صدق سے اس نشان کے جو یاں ہوں۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۴۸٬۶۴۷ بقیہ حاشیہ نمبر 11 کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی حضرت موسی کی پیش اللہ علیہ و سلم مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور کسی کی داسی کی گوئی (۳)