مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 632

مسیحی انفاس — Page 39

۳۹ - ۱۲۵ آپ نے کئی مقامات انجیل میں اپنی انسانی کمزوریوں کا اقرار کیا جیسا کہ جب قیامت کا پتہ ان سے پوچھا گیا تو آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر فرمائی اور کہا کہ بجز اللہ تعالیٰ کے قیامت کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔اب صاف ظاہر ہے کہ علم روح کی صفات میں سے ہے نہ جسم کی صفات میں انسانی کمزور ہیں اور سے۔اگر ان میں اللہ تعالٰی کی روح تھی اور یہ خود اللہ تعالیٰ ہی تھے تولا علمی کے اقرار کی کیا لاعلمی وغیرہ الوہیت وجہ۔کیا خدا تعالیٰ بعد علم کے نادان بھی ہو جایا کرتا ہے۔پھر متی ۱۹ باب ۱۶ میں لکھا ہے کے منافی ہیں۔۔دیکھو ایک نے آکے اسے (یعنی مسیح سے ) کہا اے نیک استاد میں کونساتنیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاوں۔اس نے اسے کہا تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔پھر متی ۲۰/۲۰ میں لکھا ہے کہ زبدی کے بیٹوں کی ماں نے اپنے بیٹوں کے حضرت مسیح کے دائیں بائیں بیٹھنے کی درخواست کی تو فرمایا اس میں میرا اختیار نہیں۔اب فرمائیے قادر مطلق ہونا کہاں گیا۔قادر مطلق بھی کبھی بے اختیار ہو جایا کرتا ہے اور جب اس قدر تعارض صفات میں ہو گیا کہ حضرات حواری تو آپ کو قادر مطلق خیال کرتے ہیں اور آپ قادر مطلق ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔تو ان پیش کردہ پیش گوئیوں کی کیا عزت اور کیا وقعت باقی رہی جس کے لئے یہ پیش کی جاتی ہیں۔وہی انکار کرتا ہے کہ میں قادر مطلق نہیں یہ خوب بات ہے۔پھر متی ۲۶/۳۸ میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ مسیح نے تمام رات اپنے بچنے کے لئے دعا کی اور نہائت غمگین اور دلگیر ہو کر اور روروکر اللہ جل شانہ سے التماس کی کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے اور نہ صرف آپ بلکہ اپنے حواریوں سے بھی اپنے لئے دعا کرائی جیسے عام انسانوں میں جب کیسی پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اکثر مسجدوں وغیرہ میں اپنے لئے دعا کرایا کرتے ہیں لیکن تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ خواہ نخواہ قادر مطلق کی صفت ان پر تھوپی جاتی ہے اور ان کے کاموں کو اقتداری سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی وہ دعا منظور نہ ہوئی اور جو تقدیر میں لکھا تھاوہ ہو ہی گیا۔اب دیکھو اگر وہ قادر مطلق ہوتے تو چاہئے تھا کہ یہ اقتدار اور یہ قدرت کاملہ ان کو اپنے نفس کے لئے کام آتا۔جب اپنے نفس کے لئے کام نہ آیا تو غیروں کو ان سے توقع رکھنا ایک طمع خام ہے۔صاف ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح اپنے اقوال کے ذریعہ اور اپنے افعال کے ذریعہ سے اپنے تئیں عاجز ٹھہراتے ہیں اور خدائی کی کوئی بھی صفت ان میں اب