مسیحی انفاس — Page 541
۵۴۱ ۱۳۸۵ خدا تعالیٰ پر فرض نہیں کہ تمام شرائط اپنے وجی اور الہام کے شخص ملہم پر کھول دے بلکہ جہاں کوئی ابتلاء منظور ہوتا ہے بعض شرائط کو مخفی رکھ لیتا ہے جس طرح حضرت یونس کے قصّہ میں رکھا۔اس میں کیا شک ہے کہ حضرت یونس کی پیش گوئی ایک معرکہ کی پیش ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے ایمان کی شرط کو حضرت یونس پر ظاہر نہ کیا جس سے ان کو بڑا ابتلا پیش آیا۔اور اس ابتلا سے حضرت مسیح بھی باہر نہ رہے کیونکہ جس پیش گوئی سابقہ پران خدا تعالی کا طریق کی صحت نبوت کا مدار تھا وہ پیش گوئی اپنی ظاہری صورت کے ساتھ پوری نہ ہوئی۔یعنی ایلیا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا اور آخر حضرت مسیح نے تاویلات سے کام لیا مگر تاویلات میں نہایت مشکل امر یہ تھا کہ وہ تاویلات علماء یہود کیا جماع سے بالکل بر خلاف تھیں اور ایک بھی ان کے ساتھ متفق نہیں تھا۔حضرت مسیح نے کہا کہ ایلیا سے مراد بھی ہے اور ایلیا کے صفات بیٹی میں اتر آئے ہیں گویا ایلیا ہی نازل ہو گیا۔مگر یہ تاویل نہایت سختی سے رد کی گئی اور حضرت مسیح کو نعوذ باللہ ملحد قرار دیا گیا کہ پہلی کتابوں اور نصوص صریحہ کے الٹے معنی کرتا ہے۔اس لئے عیسائی یا ایک مسلمان کے لئے ادب سے دور ہے کہ اگر کسی پیش گوئی کو اپنی صورت پر پوری ہوتی نہ دیکھے توفی الفور ملہم کو کاذب کہہ دے حضرت مسیح کی بعض پیش گوئیاں اپنے وقت پر بھی پوری نہیں ہوئیں یعنی وقت کوئی بتلایا گیا۔اور ظہور ان کا کسی اور وقت میں ہوا۔جیسے دن سے مراد سال لیا گیا۔انوار الاسلام - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۴ ١٣٨٦ ނ اجتهادی غلطی کوئی نبی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام جو خدا بنائے گئے ان کی اکثر پیش گوئیاں غلطی۔پر ہیں۔مثلاً یہ دعوی کہ مجھے داؤد کا تخت ملے گا بجز اس کے ایسے دعوی کے کیا معنے تھے کہ کسی مجمل الہام پر بھروسہ کر کے ان کو یہ خیال پیدا ہوا کہ میں بادشاہ بن جاؤں گا۔داؤد کی اولاد سے تو تھے ہی اور بگھتن شہزادہ۔اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو تخت اور بادشاہت کی بہت خواہش تھی اور اس طرف یہود بھی منتظر تھے کہ کوئی ان میں سے پیدا ہو کہ تا ان کی دوبارہ بادشاہت قائم کرے اور رومیوں کی اطاعت سے ان کو چھڑا دے۔سو در حقیقت ایساد علوی که داؤد کا تخت پھر قائم ہو گا یہودیوں کی عین مراد تھی اور