مسیحی انفاس — Page 538
دکھلائے گئے اور ان کے جذامی اچھے کئے گئے اور ان کے مادر زاد اندھوں کی آنکھیں کھولی گئیں۔وہ قدیم سے قطعا ان باتوں سے منکر چلے آویں اور کوئی فرقہ ان میں قاتل نہ ہو۔بھلا اگر اور نہیں تو سنا تو چاہئے تھا کہ جن کے باپ دادوں پر یہ احسان ہوا وہی شکر کے طور پر مانتے چلے آتے سواب اگر عیسائیوں کی انجیل یہ بیان کرتی ہے کہ مردے زندہ طور پر سوپ چیز ہوئے تو اسکے بر خلاف یہودیوں کی بہت سی کتابیں بیان کرتی ہیں کہ ایک ٹڈی بھی زندہ نہیں ہوئی اور نہ اور کوئی نشان ظاہر ہوا۔تو اب کون فیصلہ کرے کہ ان دونوں میں سے حق پر کون ہے بلکہ تین دلیل سے بظاہر یہود حق پر معلوم ہوتے ہیں۔(۱) اول یہ کہ عادت اللہ نہیں ہے کہ بار بار قبریں پھٹیں اور مردے دنیا میں آویں۔(۲) دوم یہ کہ یسوع نے انجیل میں آپ بھی مجربات دکھلانے سے انکار کیا ہے بلکہ غصہ میں آکر معجزات مانگنے والوں کو حرامکار کہہ دیا ہے۔(۳) تیسرے یہود کی طرف سے یہ حجت ہے کہ اگر یسوع میں مردہ زندہ کرنے کی طاقت ہوتی تو وہ اپنی نبوت کے ثابت کرنے کے لئے ضرور اس طاقت کو استعمال کرتا۔لیکن جب اس پوچھا گیا تھا کہ مسیح سے پہلے ایلیاء کا دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے۔اگر تو مسیح موعود ہے تو دکھلا کہ ایلیا کہاں ہے تو اس نے اس وقت تاویل سے کام لیا اور کہا کہ یو حنابن ذکریا کو ایلیا سمجھ لو اور اسی وجہ سے یہود کے علما اس کو قبول نہ کر سکے۔پس اگر اس کو زندہ کرنے کی قدرت تھی تو اس پر فرض تھا کہ وہ فی الفور ایلیا کو دکھلا دیتا اور تاویلوں میں نہ پڑتا۔غرض ایسے بیہودہ قصے ثبوت میں داخل نہیں ہیں بلکہ خود ثبوت کے محتاج ہیں۔پھر کیا مناسب تھا کہ ثبوت رؤیت کے مقابلہ پر ایسے قصوں کو پیش کیا جاتا۔اگر کہو کہ قرآن شریف میں عیسی علیہ السّلام کے معجزات کا ذکر آیا ہے۔سو واضح رہے کہ قرآن شریف کوئی تاریخی کتاب نہیں اور نہ اس نے کسی تاریخی کتاب سے ان قصوں کو نقل کیا ہے بلکہ اس کی تمام باتیں اس کی الہامی سچائی کی بنیاد پر مانی جاتی ہیں۔سو وہ جس الہام کے ذریعہ سے حضرت عیسی کے معجزات کا ذکر کرتا ہے اسی الہام کے ذریعہ سے یہ بھی بیان کرتا ہے کہ عیسیٰ صرف انسان تھا۔خدا نہیں تھا اور آنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق تھا مکذب نہیں تھا۔پس اگر ۵۳۸