مسیحی انفاس — Page 539
۵۳۹ قرآن کی وحی پر اعتماد اور ایمان ہے تو پھر کوئی جھگڑا نہیں ہم قرآن کی الہامی گواہی سے مانتے ہیں کہ عیسی بن مریم ایک صالح آدمی اور پیغمبر تھا۔اس نے کبھی خدا ہونے کا دعوی نہیں کیا اور آنے والے رسول پر اس کو ایمان تھا اور وہ صاحب مجربات تھا۔مگر یادر ہے کہ یہ گواہی الہامی ہے نہ تاریخی جو شخص قرآن کے الہام کو نہیں مانتا اس کے نزدیک یہ سب گواہی کالعدم ہے۔اور جو مانتا ہے وہ قرآن کے سارے بیان کو مانتا ہے۔اگر ایمان نہیں تو یہ حوالہ بیکار ہے۔پس جو شخص قرآن کی وحی سے انکار کرتا ہے وہ قرآن کی شہادت سے کچھ نفع نہیں اٹھا سکتا۔ہم نے جیسا کہ قرآن کی اس وحی کو قبول کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السّلام سے معجزات ظاہر ہوئے ایسا ہی اس وحی کو بھی قبول کیا ہے کہ وہ محض بندے اور خدا کے رسول اور ہمارے نبی کے مصدق تھے اور قرآن کی شہادت کی قدر و قیمت اس وقت تک ہے کہ جب اس کو خدا کی وحی سمجھی جاوے۔پس جو شخص اس کو وحی مانتا ہے وہ اس کی ساری باتیں مانتا ہے وحی کے ایک حصہ کو ماننا اور دوسرے جو رد کرنا دیانتداروں کا کام نہیں۔ہمارا جھگڑا اس یسوع کے ساتھ ہے جو خدائی کا دعوی کرتا ہے نہ اس برگزیدہ نبی کے ساتھ جس کا ذکر قرآن کی وحی نے معہ تمام لوازم کے کیا ہے۔برانم خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۸ فروری ۱۸۹۷ء یہ اشتہار ضمیمه اخبار مخبر دکن مدراس کے ایک صفحہ پر ہے ) مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۲۸ تا ۳۳۲ ٣٨٣ حضرت موسی اور ہوئیں حضرت موسیٰ کی توریت میں یہ پیش گوئی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک شام میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں پہنچائیں گے مگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی حضرت موسیٰ بھی راہ میں فوت ہوئے اور بنی اسرائیل بھی راہ میں مرگئے صرف اولاد ان کی وہاں گئی۔حضرت مسیح کی جائیں ایسا ہی حضرت عیسی کی پیش گوئی کہ بارہ ۱۲ تخت ان کے حواریوں کو ملیں گے وہ پیش گوئیاں پوری نہیں کوئی بھی غلط نکلی۔اب موسیٰ اور عیسی دونوں کی نبوت سے دستبردار ہو جاؤ۔سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں قديو عد ولا یوفی یعنی کبھی وعدہ دیا جاتا ہے اور اس کا ایفاء نہیں ہوتا۔پھر وعید کی شرطی پیش گوئیوں پر اس قدر شور مچانا کس قدر بے علمی پر دلالت کرتا ہے۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۳ حاشیه