مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 632

مسیحی انفاس — Page 34

نچ گیا۔اگر وہ قادر ہو ناتوانی ذلتیں باوجود خدا ہونے کے ہر گز نہ اٹھاتا اور نیز اگر وہ قادر ہوتا تو اس کے لئے کیا ضرورت تھی کہ اپنے بندوں کو نجات دینے کے لئے یہ تجویز سوچتا کہ آپ مر جائے اور اس طریق سے بندے رہائی پاویں۔جو شخص خدا ہو کر تین دن خدا کے بندے تین تک مرار ہا اس کی قدرت کا نام لینا ہی قابل شرم بات ہے۔اور یہ عجیب بات ہے کہ خدا تو لینادی دن تک بغیر خدا جیتے تین دن تک مرار ہا لیکن اس کے بندے تین دن تک بغیر خدا کے ہی جیتے رہے۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۲،۳۷۱ رہے۔16 قادر نیز دیکھیں نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۷۸ انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کی راہیں مسدود ہیں۔اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں مگر تعجب ہے کہ وہ خدا جواب غیر متکلم بغیر چار دور تک اس زمانہ میں بھی سنتا ہے وہ اس زمانہ میں بولنے سے کیوں عاجز ہو گیا ؟ کیا ہم اس بے بس خدا۔اعتقاد پر تسلی پکڑ سکتے ہیں کہ پہلے کسی زمانہ میں وہ بولتا بھی تھا اور سنتا بھی تھا مگر اب وہ صرف سنتا ہے مگر بولتا نہیں۔ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڑھا ہو کر بعض قوی سے بیکار ہو جاتے ہیں۔امتداد زمانہ کی وجہ سے بعض قوی اس کے بھی بیکار ہو گئے۔اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب تک ٹکٹکی سے باندھ کر اس کو کوڑے نہ لگیں اور اس کے منہ پر نہ تھو کا جائے اور چند روز اس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر اس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا۔ہم تو ایسے خدا سے سخت بیزار ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آگئی۔ہم اس خدا کو سچا خدا جانتے ہیں جس نے ایک مکہ کے غریب و بیکس کو اپنا نبی بنا کر اپنی قدرت اور غلبہ کا جلوہ اسی زمانہ میں تمام جہان کو دکھا دیا۔یہاں تک کہ جب شاہ ایران نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اس قادر خدا نے اپنے رسول کو فرمایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف ایک شخص خدائی کا دعوی کرتا ہے اور اخیر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ رومی کا ایک سپاہی اس کو گرفتار کر کے ایک دو گھنٹہ میں جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے اور تمام رات کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔اور دوسری طرف وہ مرد ہے کہ صرف رسالت کادعوی کرتا ہے۔اور خدا اس کے مقابل پر