مسیحی انفاس — Page 33
۳۳ مسیح کے حالات پڑھو تو صاف معلوم ہو گا کہ یہ شخص کبھی بھی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو۔چہ جائیکہ خدا یا خدا کا بیٹا۔تدبیر عالم اور جزا سزا کے لئے عالم الغیب ہونا ضروری ہے اور یہ خدا کی عظیم الشان صفت ہے۔مگر میں ابھی دکھا آیا ہوں کہ اسے قیامت تک کا علم نہیں اور اتنی بھی اسے معالم الب و ناخدا تعالی خبر نہ تھی کہ بے موسم انجیر کے درخت کے پاس شدت بھوک سے بے قرار ہو کر پھل کی عظیم الشان صفت کھانے کو جاتا ہے اور درخت کو جسے بذات خود کوئی اختیار نہیں ہے کہ بغیر موسم کے بھی پھل دے سکے۔بد دعا دیتا ہے۔اول تو خدا کو بھوک لگنا ہی تعجب خیز امر ہے۔اور یہ خوبی صرف انجیلی خدا کو ہی حاصل ہے کہ بھوک سے بے قرار ہوتا ہے۔پھر اس پر لطیفہ یہ بھی ہے کہ آپ کو اتنا علم بھی نہیں ہے کہ اس درخت کو پھل نہیں ہے اور پھر اگر یہ علم نہ تھا تو کاش کوئی خدائی کرشمہ ہی وہاں دکھاتے اور بے بہارے پھل اس درخت کو لگا دیتے۔تا دنیا کے لئے ایک نشان ہو جاتا۔مگر اس کی بجائے بد دعا دیتے ہیں۔اب ان ساری باتوں کے ہوتے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے ؟ میں آپ کو سچی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ تکلف سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ایک شخص ایک ہی وقت میں اپنی دو حیثیتیں بتاتا ہے۔باپ بھی اور بیٹا بھی۔خدا بھی اور انسان بھی۔کیا ایسا شخص دھوکا نہیں دیتا ہے؟ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۳۶ عیسائی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے مذہب کے اصول و فروع اچھے نہیں۔ایک انسان کو خدا بنا نا ٹھیک نہیں۔اس زمانہ میں فلسفہ اور طبعی اور سائنس کے علوم ترقی کر گئے ہیں اور لوگ خوب سمجھ گئے ہیں کہ مسیح بجز ایک ناتواں اور ضعیف انسان ہونے کے حضرت مسیح میں کوئی اقتداری قوت نہ اقتداری قوت اپنے اندر نہ رکھتا تھا اور یہ ناممکن ہے کہ ان علوم کو پڑھ کر خود اپنی ذات کا تھی۔تجربہ رکھ کر اور مسیح کی کمزوریوں اور ناتو آنیوں کو دیکھ کر یہ اعتقادر تھیں کہ وہ خدا تھا؟ ہرگز ملفوظات جلد ۸ صفحه ۳۴۸ 14 حضرات پادری صاحبان بھی اپنے خدا کو قادر نہیں سمجھتے۔کیونکہ ان کا خدا اپنے عیسائیوں کا خدا قادر مخالفوں کے ہاتھوں ماریں کھاتا رہا۔زندان میں داخل کیا گیا۔کوڑے لگے۔صلیب پر