مسیحی انفاس — Page 491
۴۹۱ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۰ تا ۲۲۴ حضرت عیسی کی اس دعا کا قبول نہ ہونا جو ایسی سخت بے قراری کی حالت میں کی گئی جس کی نسبت وہ آپ کہتا ہے کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے۔ایک ایسا امر ہے جس سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ وہ ہر گز خدا نہ تھا بلکہ انظروری حالت کی دعا ایک عاجز اور ضعیف انسان تھا جو دعا کرتا کرتا مارے غم کے موت تک پہنچ گیا۔مگر خدائے غنی بے نیاز نے دعا کو قبول نہ کیا۔اگر کہو کہ وہ دعا انسانی روح سے تھی نہ خدائی روح سے اس واسطے منظور نہ ہو سکی۔تو ہم کہتے ہیں کہ تمام پاک انبیاء انسان ہی تھے خدائی کا کس کو دعوی تھا۔تاہم ان کی دعائیں اضطراب کے وقت منظور ہوتی رہیں۔اور کوئی ایک نبی بھی بطور نظیر پیش نہیں ہو سکتا جس نے ایسے وقت میں ایسے اضطراب کے ساتھ جو موت کی سی حالت ہو دعا کی ہو اور قبول نہ ہوئی ہو۔ہمارے سید و مولی خیر الرسل محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکہ معظمہ میں جب دشمنوں نے قتل کرنے کے لئے چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا تھا ایسا ہی اضطراب پیش آیا تھا اور آپ نے دعا بھی نہیں کی تھی بلکہ راضی برضا مولی ہو کر خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا تھا۔پھر دیکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے کیسا بچالیا۔دشمنوں کے بیچ میں سے گذر گئے اور ان کے سر پر خاک ڈال گئے مگر ان کو نظر نہ آسکے۔پھر مخالف لوگ برد ایک سراغ شناس کے اس غار تک پہنچے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخفی تھے۔مگر اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے دشمنوں کو اندھا کر دیا اور وہ دیکھ نہ سکے۔پھر ایک نے ان میں ایسے وقت میں خبر پا کر تعاقب کیا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی راہ میں جارہے تھے۔مگر وہ اور اس کا گھوڑا ایسے طور سے زمین پر گرے کہ وہ سمجھ گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے۔ایسا ہی خسرو پرویز نے جب آپ کو گرفتار کرنا چاہا تو ایک ہی رات میں گرفتار پنجہ اجل ہو گیا۔اور ایسا ہی بدر کی لڑائی میں جب کہ مخالف پوری تیاری کر کے آئے تھے اور اس طرف سراسر بے سلمانی تھی خدا تعالیٰ نے وہ نمونہ تائید دکھلایا جس نے روئے زمین پر اسلام کی بنیاد جمادی۔اب جب کہ یہ قاعدہ مسلم الثبوت ہے کہ بچے نبیوں کے سخت اضطرار کی ضرور دعا قبول ہو جاتی ہے اور بار بار