مسیحی انفاس — Page 490
۴۹۰ یہ بھی بڑی ایک بھاری دلیل ہے کہ حضرت ممدوح کا فیض جاودانی جاری ہے۔اور جو کا شخص اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے وہ بلاشبہ قبر میں سے اٹھایا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی اس کو بخشی جاتی ہے نہ صرف خیالی طور پر بلکہ آثار صادقہ اس کے ظاہر ہوتے ہیں اور آسمانی مردیں اور سماوی برکتیں اور روح القدس کی خارق عادت تائیدیں اس کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور وہ تمام دنیا کے انسانوں میں سے ایک متفرد انسان ہو جاتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنے اسرار خاصہ اس پر ظاہر کرتا ہے۔عیسائیوں کی یہ سراسر بیہودہ باتیں ہیں کہ مسیح روحانی قیامت تھا اور میسیج میں ہو کر ہم جی اٹھے۔حضرات عیسائی خوب یادرکھیں کہ مسیح علیہ السلام کا نمونہ قیامت ہوتا سر موثابت نہیں اور نہ عیسائی جی اٹھے بلکہ مردہ اور سب مردوں سے اول درجہ پر اور تنگ و تاریک قبروں میں پڑے ہوئے اور شرک کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں نہ ایمانی روح ان میں ہے نہ ایمانی روح کی برکت بلکہ ادنیٰ سے ادنی درجہ توحید کا جو مخلوق پرستی سے پر ہیز کرنا ہے وہ بھی ان کو نصیب نہیں ہوا۔اور ایک اپنے جیسے عاجز اور ناتوان کو خالق سمجھ کر اس کی پرستش کر وحید کے تین دو رہ رہے ہیں۔یادر ہے کہ توحید کے تین درجے ہیں۔سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں۔نہ پتھر کی۔نہ آگ کی۔نہ آدمی کی۔نہ کسی ستارہ کی۔۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا ان کو ربوبیت کے کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں۔بلکہ ہمیشہ مستدب پر نظر رہے نہ اسباب پر۔تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلیات الہیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہر یک غیر وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی۔غرض ہر یک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز اللہ تعالیٰ کی میں روحانی زندگی ہے ذات کامل صفات کے۔یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہو که مراتب ثلاثه توحید کے حاصل ہو جائیں جائیں۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ روحانی زندگی کے تمام جاودانی چشمے محض حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے۔یہی امت ہے کہ اگر چہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کی مانند خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو جاتی ہے۔اور اگر چہ رسول نہیں مگر رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور روحانی زندگی کے دریا پر اس میں بہتے ہیں اور کوئی نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔کوئی ہے جو برکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اس دعوی کا جواب دے ! ! !