مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 632

مسیحی انفاس — Page 472

! سکے۔انصاف اور ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مسیح کو بالکل ناکامیاب ملنا پڑتا ہے۔کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قسیم کا موقعہ ملا ہے مسیح کو نہیں ملا ہے۔اور یہ ان کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسیح کو کامل نمونہ ہم کہہ ہی نہیں سکتے۔انسان کے ایمان کی تکمیل کے دو پہلو ہوتے ہیں۔اول یہ دیکھنا چاہئے کہ جب وہ مصائب کا تختہ مشق ہو اس وقت وہ خدا تعالیٰ سے کیسا تعلق رکھتا ہے ؟ کیا وہ صدق اخلاص ، استقلال اور سچی وفاداری کے ساتھ ان مصائب پر بھی انشراح صدر سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو تسلیم کرتا اور اس کی حمد و ستائش کرتا ہے یا شکوہ شکایت کرتا ہے۔اور دوسرے جب اس کو عروج حاصل ہو اور اقبال اور فروغ ملے۔تو کیا اس اقتدار اور اقبال کی حالت میں وہ خدائے تعالے کو بھول جاتا ہے اور اس کی حالت میں کوئی قابل اعتراض تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے یا اسی طرح خدا سے تعلق رکھتا اور اس کی حمد وستائش کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو عفو کرتا اور ان پر احسان کر کے اپنی عالی ظرفی اور بلند حوصلگی کا ثبوت دیتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو کسی نے مارا ہے اگر وہ اس پر قادر ہی نہیں ہوا کہ اس کو سزا دے سکے اور اپنا انتقام لے۔پھر بھی وہ کہے کہ دیکھو میں نے اس کو کچھ بھی نہیں کہا تو یہ بات اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتی اور اس کا نام بردباری اور تحمل نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ اسے قدرت ہی حاصل نہیں ہوئی۔بلکہ ایسی حالت ہے کہ گالی کے صدمہ سے بھی رو پڑے تو یہ تو ستر بی بی از بے چادری کا معاملہ ہے۔اس کو اخلاق اور بردباری سے کیا تعلق !!! - مسیح کے اخلاق کا نمونہ اسی قسم کا ہے۔اگر انہیں کوئی اقتداری قوت ملتی اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی توفیق انہیں ہوتی پھر اگر وہ اپنے دشمنوں سے پیار کرتے اور ان کی خطائیں بخش دیتے تو بیشک ہم تسلیم کر لیتے کہ ہاں انہوں نے اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھایا۔لیکن جب یہ موقعہ ہی ان کو نہیں ملا تو پھر انہیں اخلاق کا نمونہ ٹھہرانا صریح بے حیائی ہے۔جب تک دونوں پہلو نہ ہوں خلق کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔اب مقابلہ میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔کہ جب مکہ والوں