مسیحی انفاس — Page 469
۴۷۹ کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۴ تا۵۶ سے موازنہ قرآن کریم نے اپنے کلام اللہ ہونے کی نسبت جو ثبوت دیتے ہیں۔اگر چہ میں اس وقت ان ثبوتوں کو تفصیل دار نہیں لکھ سکتا۔لیکن اتنا کہتا ہوں کہ منجملہ ان ثبوتوں کے بیرونی دلائل جیسے پیش از وقت نبیوں کا خبر دینا جو انجیل میں بھی لکھا ہوا آپ پاؤ کملات تعلیم کے لحاظ گے۔دوسرے ضرورت حقہ کے وقت قرآن شریف کا آنا یعنی ایسے وقت پر جب کہ عملی حالت تمام دنیا کی بگڑ گئی تھی اور نیز اعتقادی حالت میں بھی بہت اختلاف آگئے تھے اور اخلاقی حالتوں میں بھی فتور آگیا تھا۔تیسرے اس کی حقانیت کی دلیل اس کی تعلیم کامل ہے کہ اس نے آکر ثابت کر دکھایا کہ موسیٰ کی تعلیم بھی ناقص تھی جو ایک شق سزا دہی پر زور ڈال رہے تھے اور مسیح کی تعلیم بھی ناقص تھی جو ایک شق عفو اور در گذر پر زور ڈال رہی تھی اور گویا ان کتابوں نے انسانی درخت کی تمام شاخوں کی تربیت کا ارادہ ہی نہیں کیا تھا صرف ایک ایک شاخ پر کفایت کی گئی تھی لیکن قرآن کریم انسانی درخت کی تمام شاخوں یعنی تمام قومی کو زیر بحث لایا اور تمام کی تربیت کے لئے اپنے اپنے محل و موقعہ پر حکم دیا۔جس کی تفصیل ہم اس تھوڑے سے وقت میں کر نہیں سکتے۔انجیل کی کیا تعلیم تھی جس پر مدار رکھنے سے سلسلہ دنیا کا ہی بگڑتا ہے اور پھر آکر یہی عفو و در گذر عمدہ تعلیم کہلاتی ہے۔تو جین مت والے کئی نمبر اس سے بڑھے ہوئے ہیں جو کیڑے مکوڑوں اور جیووں اور سانپوں تک آزار دینا نہیں چاہتے۔قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال کمال تقسیم ہے یعنی اس نے ان تمام راہوں کو سمجھانے کے لئے اختیار کیا ہے جو تصور میں آسکتے ہیں اگر ایک عامی ہے تو اپنی موٹی سمجھ کے موافق فائدہ اٹھاتا۔اور اگر ایک فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے اور اس نے اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے دکھلایا ہے اور آیت تعالوا إلى كَلِمَةٍ ۳۱۵ میں اہل کتاب پر یہ حجت پوری کرتا ہے کہ اسلام وہ کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ میں ہیں یا تمام دنیا کے ہاتھ میں ہیں ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے اور پھر قرآن کریم کے کمالات میں تیسرا حصہ اس کی تاثیرات ہیں۔اگر حضرت مسیح کے حواریوں اور ہمارے نبی صلعم کے صحابہ کا ایک نظر صاف سے مقابلہ کیا جائے تو ہمیں کچھ بتلانے کی حاجت نہیں اس مقابلہ سے صاف