مسیحی انفاس — Page 464
صرف اسلام میں ہے عیسائی مذہب اس روشنی سے بے نصیب ہے یقیناً سمجھو کہ عیسائی مذہب کے بطلان کے لئے یہی دلیل ہزار دلیل سے بڑھ کر ہے کہ مردہ ہر گز زندہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ اندھا سو جاکھے کے ساتھ پورا اتر سکتا ہے۔حجتہ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۳ ہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح نہایت وسیع اور عام اور مسلم الطوائف ہے۔اور یہ مرتبہ اصلاح کا کسی گذشتہ نبی کو نصیب نہیں ہوا۔اور اگر اصلاح کے لحاظ سے کوئی عرب کی تاریخ کو آگے رکھ کر سوچے تو اسے معلوم ہو گا کہ اس وقت کے بت پرست موازنہ اور عیسائی اور یہودی کیسے متعصب تھے اور کیونکر ان کی اصلاح کی صدہا سال سے نومیدی ہو چکی تھی۔پھر نظر اٹھا کر دیکھئے کہ قرآنی تعلیم نے جو ان کے بالکل مخالف تھی کیسی نمایاں تاثیریں دیکھلائیں اور کیسی ہریک بد اعتقاد اور ہریک بدکاری کا استیصال کیا۔شراب کو جو ام الخبائث ہے دور کیا۔قمار بازی کی رسم کو موقوف کیا۔دختر کشی کا استیصال کیا اور جو انسانی رحم اور عدل اور پاکیزگی کے برخلاف عادات تھیں سب کی اصلاح کی۔ہاں مجرموں نے اپنے جرموں کی سزائیں بھی پائیں جن کے پانے کے وہ سزاوار تھے۔پس اصلاح کا امر ایسا امر نہیں ہے جس سے کوئی انکار کر سکے۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ اس زمانہ کے بعض حق پوش پادریوں نے جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے اس قدر عام اصلاح ہوئی کہ اس کو کسی طرح چھپا نہیں سکتے۔اور اس کے مقابل پر جو مسیح نے اپنے وقت میں اصلاح کی وہ بیچ ہے تو ان پادریوں کو فکر پڑی کہ گمراہوں کو رو با صلاح کرنا اور بدکاروں کو نیکی کے رنگ میں لانا جو اصل نشانی تجے نبی کی ہے۔وہ جیسا کہ اکمل اور اتم طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے ظہور میں آئی۔مسیح کی اصلاح میں کوئی بھی اس کی نسبت نہیں پائی جاتی تو انہوں نے اپنے دجالی فریبوں کے ساتھ آفتاب پر خاک ڈالنا چاہا تو نا چار جیسا کہ پادری جیمس کیرن لیس نے اپنے لیکچر میں شائع کیا ہے جاہلوں کو اسی طرح پر دھوکہ دیا کہ وہ لوگ پہلے سے صلاحیت ہونے کے لئے مستعد تھے۔اور بت پرستی اور شرک ان کی نگاہوں میں حقیر ٹھہر چکا تھا۔لیکن اگر ایسی رائے ظاہر کرنے والے اپنے اس خیال میں بچے ہیں تو انہیں لازم ہے