مسیحی انفاس — Page 460
| | ہوں موجود ہیں۔حضرت مسیح کا مجھے بارہا خیال آتا ہے کہ یہ نادان عیسائی کس شیخی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مقابلہ کرنے بیٹھتے ہیں۔حضرت مسیح کا تو دعوی ہی بجائے خود محدود ہے۔وہ صاف کہتے ہیں کہ میں بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آیا ضربت عليهم الذلة الآمیہ کی مصداق آپ کی دعوت کی مخاطب قوم تھی۔یہ دعوی تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی نمبرداری پاپتی داری کا دعونی کرے۔اب ان کی ہمت استقلال اور توجہ اسی دعوی کی نسبت ہوئی چاہئے۔دوسری طرف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قُلْ يَتَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اب اس ہمت اور بلند نظری اور توجہ کامقابلہ کرو۔کیا ہی خدائی کی شان ہے کہ یہودیوں کے چار گھروں کے سوا اور کسی کی اصلاح کے لئے بھی نہیں آئے۔خدا کے حسب حال تو ہونا چاہئے تھا کہ آپ کی دعوت کا میدان بڑا وسیع ہوتا۔خیرینی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کے لئے ہی دعوت ہی۔مگر اب یہ بھی تو دیکھنا ہے کہ اس میں کامیابی کیا ہوئی۔غور کیا جاوے اور انجیلی واقعات پر نگاہ کی جاوے تو یہ راز بھی کھل جاتا ہے کہ آپ کو ہر میدان میں ذلیل ہونا پڑا۔دشمنوں پر کامیابی نہ ملی۔انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑہا دیا اور قصہ پاک ہوا۔اس خدا کا مقابلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا ہے۔آپ ہر میدان میں مظفر و منصور ہوئے۔آپ کے دشمن آپ پر کبھی قابو اور غلبہ نہ پاسکے۔اور آپ کے سامنے ہی ہلاک ہوئے۔آپ کو بھیجا ایسے وقت میں گیا جب کہ زمانہ آپ کی ضرورت کو خود ثابت کرتا تھا۔اور اٹھائے ایسے وقت گئے۔جب کہ کامل اصلاح ہو چکی اور آپ اپنے فرض منصبی کو پوری کامیابی کے ساتھ ادا کر چکے اور اليوم اكملت لكم دينكم کی آواز آپ نے سن لی۔پھر مسیح کی طرف دیکھو آپ صلیب پر چڑھے ہوئے ہیں اور ایلی اپلی لما سبقتنی کی فریاد کرتے ہیں۔یہودا اسکر یوطی میں روپیہ پر اپنے پاک استاد کو پکڑوا چکا ہے اور پطرس صاحب لعنت بھیج رہے ہیں۔مسیح کے لئے وہ نظارہ کیسا مایوسی بخش ہے۔دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کے جانگر رفیق کس طرح پر اپنی جانیں آپ کے قدموں پر قربان کر رہے ہیں۔ایسے وفادار اور فرمانبردار