مسیحی انفاس — Page 451
۴۵۱ ہوتا ہے کہ مسیح نے خدا کے بیٹے کا لفظ دو طور سے استعمال کیا ہے۔(۱) اول تو یہ کہ مسیح کے وقت میں یہ قدیم رسم تھی کہ جو شخص رحم اور نیکی کے کام کرتا۔اور لوگوں سے مروت اور احسان سے پیش آتا تو وہ واشگاف کہتا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔اور اس لفظ سے اس کی یہ نیت ہوتی تھی کہ جیسے خدا نیکوں اور بدوں دونوں پر رحم کرتا ہے اور اس کے آفتاب اور ماہتاب اور بارش سے تمام برے بھلے فائدہ اٹھاتے ہیں ایسا ہی عام طور پر نیکی کرنا میری عادت ہے لیکن فرق اس قدر ہے کہ خدا تو ان کاموں میں بڑا ہے۔اور میں چھوٹا ہوں۔سوانجیل نے بھی اس لحاظ سے خدا کو باپ ٹھہرایا کہ وہ بڑا ہے اور دوسروں کو بیٹا ٹھہرایا یہ نیت کر کے کہ وہ چھوٹے ہیں۔مگر اصل امر میں خدا سے مساوی کیا یعنی کمیت میں کمی بیشی کو مان لیا مگر کیفیت میں بیٹا باپ ایک رہے۔اور یہ ایک مخفی شرک تھا۔اس لئے کامل کتاب یعنی قرآن شریف نے اس طرح کی بول چال کو جائز نہیں رکھا۔یہودیوں میں جو ناقص حالت میں تھے جائز تھا اور انہیں کی تقلید سے یسوع نے اپنی باتوں میں بیان کر دیا۔چنانچہ انجیل کے اکثر مقامات میں اسی قسم کے اشارے پائے جاتے ہیں کہ خدا کی طرح رحم کرو۔خدا کی طرح دشمنوں سے بھی ایسی ہی بھلائی کرو جیسا دوستوں سے تب تم خدا کے فرزند کہلاو گے۔کیونکہ اس کے کام سے تمہارا کام مشابہ ہو گا۔صرف اتنا فرق رہا کہ وہ بڑا منزلہ باپ خدا اور تم چھوٹے منزلہ بیٹے کے ٹھہرے۔سو یہ تعلیم در حقیقت یہودیوں کی کتابوں سے لی گئی تھی۔اس لئے یہودیوں کا اب تک یہ اعتراض ہے کہ یہ چوری اور سرقہ ہے۔بائبل سے چرا کر یہ باتیں انجیل میں لکھ دیں۔بہر حال یہ تعلیم ایک تو ناقص ہے اور دوسرے اس طرح کا بیٹا محبت ذاتی سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔(۲) دوسری قسم کے بیٹے کا انجیل میں ایک بیہودہ بیان ہے جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۴ میں ہے۔یعنی اس درس میں بیٹا تو ایک طرف ہریک کو خواہ کیساہی بد معاش ہو خدا بنا دیا ہے۔اور دلیل یہ پیش کی ہے کہ نوشتوں کا باطل ہونا ممکن نہیں۔غرض انجیل نے شخصی تقلید سے اپنی قوم کا ایک مشہور لفظ لے لیا۔علاوہ اس کے یہ بات خود غلط ہے کہ خدا کو باپ قرار دیا جاوے اور اس سے زیادہ تر نادان اور بے ادب کون ہو گا کہ باپ کا لفظ خدا تعالیٰ پر اطلاق کرے۔چنانچہ ہم اس بحث کو بفضلہ تعالیٰ کتاب من الر حمان