مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 632

مسیحی انفاس — Page 442

اور دانت دونوں نکل سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایک نبی کا کلام بے ربط اور دیوانوں کی طرح نہیں ہونا چاہئے۔آپ جانتے ہیں کہ یسوع صاحب کا مدعاتو ہی تھا کہ موسیٰ کی کتاب میں آنکھ نکالنے کی سزا آنکھ لکھی ہے مگر میری تعلیم اخلاقی صورت میں اس سے بڑھ کر ہے۔ہیں یسوع صاحب کے قول کے اس جگہ وہ معنی کئے جاویں جن سے موسیٰ اور یسوع کی تعلیم ایک ہی بن جائے تو پھر ان کا اصل مقصد جو اخلاقی تعلیم کا زیادہ نمونہ دکھلانا ہے بالکل فوت ہو جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کی توریت میں کسی جگہ یہ نہیں لکھا کہ تم ہلکے ہلکے طمانچے کھا کر ان کے عوض بھی طمانچے مارا کرو اور ذرہ ذرہ سی باتوں میں مقدمے بناؤ بلکہ توریت میں صرف ایسی باتوں کو قانون قصاص میں داخل کیا ہے جن کو ایک متوسط العقل آدمی مواخذہ کے لائق سمجھتا ہے جیسے آنکھ پھوڑنا، دانت نکالنا، جان سے مارنا وغیرہ وغیرہ۔کیونکہ اگر ایسے ایسے شدید حملوں کو نہ روکا جائے تو بنی آدم کی زندگی ایک دن بھی ممکن نہیں۔یہ نہیں کہ اگر کوئی ذرہ جسم پر انگلی بھی لگا دے تو اس پر بھی مقابلہ کے طور پر انگلی لگادینی چاہئے۔یہ تو وحشیانہ حرکات ہیں اور نبیوں کی تعلیمیں ایسی رزیلانہ مقابلہ کی ہر گزر غبت نہیں دیتیں کہ جس میں اخلاقی حالت کا بالکل ستیا ناس ہو جائے اور انسان ان نادان بچوں کی طرح بن جائے جو ذرہ ذرہ سی بات میں ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں۔پھر پادری ٹھاکر داس صاحب نے جب دیکھا کہ انجیل کی یکطرفہ تعلیم پر در حقیقت عقل اور قانون قدرت کا سخت اعتراض ہے تو نا چار ایک غرق ہونے والے کی طرح قرآن شریف کو ہاتھ ملا ہے تا کوئی سہارا ملے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب میں بھی اس کے یعنی اس انجیل کے حکم کی تعریف کی گئی ہے یہ اور پھر ایک آیت کا غلط ترجمہ پیش کرتے ہیں کہ اگر بدلہ دو تو اس قدر بدلہ دو جس قدر تمہیں تکلیف پہنچے اور صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے۔اور اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ گویا یہ انجیلی تعلیم کے موافق ہے۔مگر یہ کچھ تو ان کی غلطی اور کچھ شرارت بھی ہے۔غلطی ا یه کلمه که قرآن جیسی کتاب میں بھی، ایک تحقیر کا کلمہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کی بزرگ اور مقدس کتاب کی نسبت پادری صاحب نے استعمال کیا ہے۔ہمیں بڑا تعجب ہے کہ یہ مردہ پرست قوم اللہ جل شانہ کے پاک کلام سے اس قدر کیوں بغض رکھتی ہے۔منہ