مسیحی انفاس — Page 28
۲۸ ہی پیش کیا۔اور فرمایا هند الوسل خلت قبله من یعنی حضرت مسیح علیہ السلام بے شک نبی تھے اور اللہ سلمہ تلخ اور کام انی جل شانہ کے پیارے رسول تھے مگر وہ انسان تھے۔تم نظر اٹھا کر دیکھو جب سے یہ سلسلہ کے لئے ہمیشہ انسان نہی مرتبہ رسالت حاصل تبلیغ اور کلام الہی کے نازل کرنے کا شروع ہوا ہے ہمیشہ اور قدیم سے انسان ہی رسالت کا کرتے رہے نہ کہ بھی مرتبہ پا کر دنیا میں آتے رہے ہیں یا کبھی اللہ تعالیٰ کا بیٹا بھی آیا ہے اور خلت کا لفظ خدا کا بیٹا آیا۔اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جہاں تک تمہاری نظر تاریخی سلسلہ کو دیکھنے کے لئے وفاکر ہے اور لوگوں کا حال معلوم کر سکتے ہو خوب سوچو اور سمجھو کہ کبھی یہ سلسلہ ٹوٹا بھی ہے۔کیا تم کوئی ایسی نظیر پیش کر سکتے ہو جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ امر ممکنات میں سے ہے پہلے بھی کبھی کبھی ہوتا آیا ہے۔سو عظمند آدمی اس جگہ ٹھہر کر اور اللہ جل شانہ کا خوف سحر کے دل میں سوچے کہ حادثات کا سلسلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کی نظیر بھی کبھی کسی زمانہ میں پائی جاوے۔ہاں اگر بائبل کے وہ تمام انبیاء اور صلحاء جن کی نسبت بائبل میں بھی الفاظ موجود ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے یا خدا تھے حقیقی معنوں پر حمل کر لئے جاویں تو بے شک اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ بیٹے بھی بھیجا کرتا ہے بلکہ بیٹے کیا کبھی کبھی بیٹیاں بھی۔اور بظاہر یہ دلیل تو عمدہ معلوم ہوتی ہے اگر عیسائی صاحبان اس کو پسند فرماویں اور کوئی اس کو تو ڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ حقیقی غیر حقیقی کا تو وہاں کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ بعض کو تو پہلوٹا ہی لکھ دیا۔ہاں اس صورت میں بیٹیوں کی میزان بہت بڑھ جائے گی۔غرضیکہ اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے ابطال الوہیت کے لئے بھی دلیل استقرائی پیش کی ہے۔پھر بعد اس کے ایک اور دلیل پیش کرتا ہے امه صدیقه یعنی والدہ حضرت مسیح کی راست باز تھی۔یہ تو ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اللہ جل شانہ کا حقیقی بیٹا فرض کر لیا جاوے تو پھر یہ ضروری امر ہے کہ ای واللہ سے وہ دوسروں کی طرح ایسی والدہ کے اپنے تولد میں محتاج نہ ہوں جو باتفاق فریقین انسان تھی ایسی تولد کا محتاج نہ ہو۔کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر اور کھلی کھلی ہے کہ قانون قدرت اللہ جل شانہ کا اسی طرر واقع ہے کہ ہر ایک جاندار کی اولاد اس کی نوع کے موافق ہوا کرتی ہے۔دیکھو کہ جس قدر جانور ہیں مثلاً انسان اور گھوڑا اور گدھا اور ہر ایک پرند وہ اپنی اپنی نوع کے لحاظ سے وجود پذیر ہوتے ہیں یہ تو نہیں ہوتا کہ انسان کسی پرندہ سے پیدا ہو مسیح اگر خدا کا بیٹا ہو تو مثلاً