مسیحی انفاس — Page 27
۲۷ لام تھا اور ناک کے ذریعہ سے دیکھتا تھا ایسا ہی اور باتوں کو بھی بدل دے۔یا مثلاً کہے کہ کسی زمانہ میں انسان کی آنکھیں دو نہیں ہوتی تھیں بلکہ میں ہوتی تھیں۔دس تو سامنے چہرہ تو میں اور دس پشت پر لگی ہوئی تھیں۔تو اب ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ گو فرض کے طور پر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ ان عجیب تحریروں کا لکھنے والا کوئی مقدس اور راست باز آدمی تھا۔مگر ہم اس یقینی نتیجہ سے کہاں اور کدھر گریز کر سکتے ہیں جو قیاس استقرائی سے پیدا ہوا ہے۔میری رائے میں ایسا بزرگ اگر نہ صرف ایک بلکہ کروڑ سے بھی زیادہ اور قیاس استقرائی سے نتائج قطعیہ یقینیہ کو توڑنا چاہیں تو ہر گز ٹوٹ نہیں سکیں گے بلکہ اگر ہم منصف ہوں اور حق پسندی ہمارہ شیوہ ہو تو اس حالت میں کہ اس بزرگ کو ہم در حقیقت ایک بزرگ سمجھتے ہیں اور اس کے الفاظ میں ایسے ایسے کلمات خلاف حقائق مشہورہ محسوسہ کے پاتے ہیں تو ہم اس کی بزرگی کی خاطر سے صرف عن الظاہر کریں گے اور ایسی تاویل کریں گے جس سے اس بزرگ کی عزت قائم رہ جاوے۔ورنہ یہ تو ہر گز نہ ہو گا کہ جو حقائق استقراء کے یقینی اور قطعی ذریعہ سے ثابت ہو چکے ہیں وہ ایک روایت دیکھ کر دیئے جاویں۔اگر ایسا کسی کا خیال ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے کہ وہ استقراء مثبته موجودہ قطعیہ یقینیہ کے برخلاف اس روائت کی تائید اور تصدیق میں کوئی امر پیش کر دیوے۔مثلاً جو شخص اس بات پر بحث کرتا اور لڑتا جھگڑتا ہے کہ صاحب ضرور پہلے زمانہ میں لوگ زبان کے ساتھ دیکھتے اور کان کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے تو اس کا ثبوت پیش کرے۔اور جب تک ایسا ثبوت پیش نہ کرے تب تک ایک مہذب نظمند کی شان سے بہت بعید ہے کہ ان تحریرات پر بھروسہ کر کے جن کے بصورت صحت بھی بیس ہیں معنے ہو سکتے ہیں وہ معنی اختیار کرے جو حقائق ثابت شدہ سے بالکل مغائر اور منافی پڑے ہوئے ہیں مثلاً اگر ایک ڈاکٹر سے ہی اس بات کا تذکرہ ہو کہ سم الفار اور وہ زہر جو تلخ بادام سے تیار کیا جاتا ہے اور بیش یہ تمام زہریں نہیں ہیں۔اور ان کو دو دو سیر کے قدر بھی انسان کے بچوں کو کھلایا جاوے تو کچھ ہرج نہیں اور اس کا ثبوت یہ دیوے کہ فلاں مقدس کتاب میں ایسا ہی لکھا ہے اور راوی معتبر ہے۔تو کیا وہ ڈاکٹر صاحب اس مقدس کتاب کا لحاظ کر کے ایسے امر کو چھوڑ دیں گے جو قیاس استقرائی سے ثابت ہو چکا ہے۔غرض جبکہ قیاس استقرائی دنیا کے حقائق ثابت کرنے کے لئے اول درجہ کا مرتبہ رکھتا ہے تو اسی جہت سے اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے قیاس استقرائی کو