مسیحی انفاس — Page 441
۴۴۱ i سے کچھ علاوہ بیان کرنا چاہتے ہیں۔پھر اگر مقام متنازعہ فیہ میں توریت سے زیادہ کوئی بات نہیں بلکہ جیسا کہ ایک یہودی کسی ظالم کے ہاتھ سے ظلم اٹھا کر عدالت سے چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے یہی انجیل کی بھی تعلیم ہے تو پھر صبح کا یہ دعوی کہ پہلی کتاب میں تو یہ کہا گیا ہے مگر میں یہ کہتا ہوں محض لغو ٹھہرتا ہے سوال تو یہ ہے کہ مسیح نے جو توریت کی تعلیم آنکھ کے بدلے آنکھ ، دانت کے بدلے دانت بیان کر کے پھر اپنی ایک نئی تعلیم بتلائی جو اس سے بہتر ہے وہ کیا ہے۔اب جب کہ نئی تعلیم کوئی بھی ثابت نہ ہو سکی تو یہ کہنا پڑے گا کہ مسیح نے صرف دھوکہ دیا ہے اور پاوری ٹھاکر داس صاحب یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے یسوع صاحب کا ظالم کے مقابلہ سے اپنے چیلوں کو منع کرنا صرف چھوٹی چھوٹی باتوں تک محدود ہے اور کہتے ہیں کہ ترک مقابلہ سے یہ مطلب ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتیں جیسے یہ مثلاً گال پر طمانچہ کھانا بدلہ لینے کا محل نہیں ہے بلکہ ایسی حالتوں میں برداشت کرنا فرض ہے۔مگر وہ اپنے اس بیان سے ثابت کرتے ہیں کہ انجیل کی منشاء سے وہ کیسے ناواقف ہیں۔اے صاحب آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لا کہ ظلم کا منہ پر طمانچہ مارنا چھوٹی باتوں میں داخل ہے۔شاید اب تک آپ نے کسی زبر دست کا طمانچہ نہیں کھایا۔افسوس کہ موسیٰ کا طمانچہ بھی آپ کو یاد نہ رہا کہ اس کا کیا نتیجہ تھا۔اگر اس جگہ طمانچہ سے صرف ایک پیار اور محبت کا طمانچہ ہے جس میں آنکھ یا دانت کے نکلنے کا خطرہ نہیں تو آپ کے یسوع صاحب ایک نادان اور ژولیدہ زبان ٹھہریں گے۔جن کا کلام غیر منظم اور پریشان ہے کہ تعلیمی مقابلہ دکھلانے کے وقت آنکھ اور دانت کے مقابل پر گال کے طمانچہ کا ذکر کرتے ہیں جو محض ایک بے تعلق امر ہے۔ظاہر ہے کہ اگر گال کے طمانچہ میں آنکھ اور دانت کا ذکر کچھ بھی ملحوظ نہیں تو یہ عبارت سخت بے جوڑ اور منقطع ہو گی۔اور سابق اور لاحق کا کچھ بھی باہم ربط نہ ہو گا۔اگر یسوع صاحب کا وہی منشاء تھا جو پادری صاحب نے سمجھا ہے تو یوں کہنا چاہئے تھا کہ تم سن چکے ہو کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت نگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ آنکھ اور دانت کے عوض تو تم ظالم کا مقابلہ کر ولیکن اگر کوئی ہلکا سا طمانچہ مارے جس سے نہ آنکھ پھوٹے اور نہ دانت نکلے تو اس کی برداشت کر لو۔مگر آپ کے یسوع صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو آنکھ اور دانت کا ذکر کر کے پھر اپنی تعلیم کی فوقیت دکھلانے کے لئے ایسے عضو کا ذ کر کیا جس پر ایک زور کا طمانچہ لگنے سے آنکھ