مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 632

مسیحی انفاس — Page 440

م سوم دشمن ظالم کا پر زور طمانچہ مادر مہربان کی طرح نہیں ہو گا بلکہ وہ تو ایک ہی طمانچہ سے ایک ہی ضرب سے دانت بھی نکال ڈالے گا اور آنکھ بھی۔پس اس تعلیم سے تو یہی ثابت ہوا کہ اگر بچے عیسائی ہو تو دانت اور آنکھ نکالنے دو اور مقابلہ نہ کرو۔اور اپنی آنکھ اور دانت کو مت بچاؤ۔سو اس وقت وہی اعتراض انجیل پر ہو گا جو خیر الدین صاحب نے پیش کیا ہے۔اور اس آیت کا یہ بھی مطلب ہے کہ اگر کوئی ظالم تمہاری آنکھ نکال دے یا دانت توڑ دے تو یہ کوشش بھی مت کرو کہ اس کی آنکھ بھی پھوڑی جائے یا اس کا دانت بھی نکال دیا جائے۔یعنی نہ آپ انتقام لو اور نہ حکام کے ذریعہ سے انتقام کی خواہش کرو۔کیونکہ اگر انتقام ہی لینا ہے تو پھر ایسی تعلیم کو توریت پر کیا فوقیت ہے۔آپ سزا دینا یا حکام سے سزا دلوانا ایک ہی بات ہے۔اور اگر کوئی عیسائی کسی ظالم کو حکام کے ذریعہ سے سزا دلائے، تو اسے یادرکھنا چاہئے کہ توریت بھی تو ایسے موقعہ پر یہ اجازت نہیں دیتی کے ایسے مجرم کی شخص مظلوم آپ ہی آنکھ پھوڑ دے یا دانت نکال دے بلکہ ہدایت کرتی ہے کہ ایسا شخص حکام کے ذریعہ سے چارہ جوئی کرے۔پس اس صورت میں مسیح کی تعلیم میں کونسی زیادتی ہوئی۔یہ تعلیم تو پہلے ہی سے توریت میں موجود تھی۔اس جگہ ہم صفائی بیان کے لئے پادری صاحب سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر مثلا کسی موقعہ پر کوئی ایسا اتفاق ہو جائے کہ کوئی ظالم آپ کی آنکھ پھوڑ دے یا آپ کا ایک دانت نکال دے تو انجیل کی رو سے آپ ایسے ظالم سے کس طرح پیش آئیں گے۔اگر کہو کہ اس وقت ہم بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ نہیں کریں گے مگر عدالت کے ذریعہ سے انتقام لیں گے۔تو یہ کاروائی انجیلی تعلیم کا ہر گز منشاء نہیں ہے۔کیونکہ اگر آنکھ کے بدلے ضرور آنکھ کو پھوڑتا ہے۔اور کسی قاضی یا حاکم کی طرف رجوع کرنا ہے تو یہ توریت کی تعلیم ہے جو آپ کے یسوع صاحب کے وجود سے بھی پہلے بنی اسرائیل میں رائج تھی اور اب بھی کمزور اور ضعیف لوگ کب شریروں کا مقابلہ کرتے ہیں۔وہ بھی تو فوجداری اور مالی مقدمات میں عدالتوں کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔مگر متی کے پانچ باب میں جس طرز بیان کو آپ کے یسوع صاحب نے اختیار کیا ہے یعنی توریت کے احکام پیش کر کے جابجا کہا ہے کہ انگلوں سے یہ کہا گیا ہے مگر میں تمہیں یہ کہتا ہوں۔اس طرز سے صاف طور پر ان کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ وہ توریت کی تعلیم