مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 632

مسیحی انفاس — Page 434

م کی اقبال انجیل کی تعلیم نا قتل چکا ہے کہ مسیح صرف اپنے خون کا فائدہ پہنچانے کے لئے آیا تھا۔یعنی اس لئے کہ نا گناہ محل ہے کرنے والے اس کے مرنے سے نجات پاتے رہیں۔ورنہ انجیل کی تعلیم ایک معمولی بات ہے جو پہلے سے بائیل میں موجود ہے۔گویا دوسرے لفظوں میں یہ کہنا کہ یہ صرف دکھانے کے دانت ہیں۔اس پر عمل کرنا مقصود ہی نہیں۔اور یہی سچ ہے۔کیا عدالتیں اس پر عمل کرتی ہیں؟ کیا خود پادری صاحبان اس پر عمل کرتے ہیں ؟ کیا عوام عیسائی اس کے پابند ہیں ؟ ہاں کفارہ اور خون صحیح کے موافق ضرور عمل ہو رہا ہے۔اور اس سے یورپ امریکہ دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔علاوہ اس کے یہ بھی سخت غلطی ہے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل کہا جائے۔وہ انسانی فطرت کے درخت کی پورے طور پر آبپاشی نہیں کر سکتی۔اور صرف ایک شاخ کو غیر موزون طور پر لمبی کرتی ہے اور باقی کو کاٹتی ہے۔اور جن جن قوتوں کے ساتھ انسان اس مسافر خانہ میں آیا ہے۔انجیل ان سب قوتوں کی مرتی نہیں ہے۔انسان کی فطرت پر نظر کر کے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو مختلف قومی اس غرض سے دیئے گئے ہیں تاوہ مختلف وقتوں میں حسب تقاضا محل اور موقعہ کے ان قوی کو استعمال کرے۔مثلاً انسان میں منجملہ اور خلقوں کے ایک خلق بکری کی فطرت کے مشابہ ہے۔اور دوسرا خلق شیر کی فطرت سے مشابہت رکھتا ہے۔پس خدائے تعالیٰ انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بکری بننے کے محل میں بکری بن جائے اور شیر بننے کے محل میں وہ شیر بن جائے۔اور خدا تعالیٰ ہرگز نہیں چاہتا کہ وہ ہر وقت اور ہر محل میں بکری بنار ہے۔اور نہ یہ کہ ہر جگہ وہ شیر ہی بنا ر ہے۔اور جیسا کہ وہ نہیں چاہتا کہ ہر وقت انسان سوتا ہی رہے۔یا ہر وقت جاگتا ہی رہے۔یا ہر دم کھاتا ہی رہے۔یا ہمیشہ کھانے سے منہ بند ر کھے۔اسی طرح وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ انسان اپنی اندرونی قوتوں میں سے صرف ایک قوت پر زور ڈال دے۔اور دوسری قوتیں جو خدا کی طرف سے اس کو ملی ہیں۔ان کو لغو سمجھے۔اگر انسان میں خدا نے ایک قوت حلم اور نرمی اور در گذر اور صبر کی رکھی ہے تو اسی خدا نے اس میں ایک قوت غضب اور خواہش انتقام کی بھی رکھی ہے۔پس کیا مناسب ہے کہ ایک خداداد قوت کو تو حد سے زیادہ استعمال کیا جائے اور دوسری قوت کو اپنی فطرت میں سے نکلی کاٹ کر پھینک دیا جائے۔اس سے تو خدا پر اعتراض آتا ہے کہ گویا اس نے بعض قوتیں انسان کو ایسی دی ہیں جو استعمال کے لائق نہیں۔کیونکہ یہ مختلف قوتیں اسی نے تو انسان میں پیدا