مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 632

مسیحی انفاس — Page 426

۴۲۶ ۱۲۹۷ عفو و در گذر کی تعلیم کی وجہ نے ہم کو شرمندہ نہیں کیا۔عیسائی کیسے شرمندہ ہوتے ہیں۔الغرض انسان یا حسن کا گرویدہ ہوتا ہے یا احسان کا۔کامل طور پر یہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان کئے ہیں۔سورۂ فاتحہ میں پہلے حسن و احسان ہی کو دکھایا ہے۔ملفوظات۔جلد ۴ صفحه ۴۴۶ ، ۴۴۷ یہ بھی میں نے بیان کیا ہے کہ یہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے کسی اور کتاب نے نہیں دی۔اور ایسی کامل ہے کہ کوئی نظیر اس کی پیش نہیں کر سکتا۔یعنی جزا و ا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا الآیۃ اس میں عفو کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ اس میں اصلاح ہو۔یہودیوں کے مذہب نے یہ کیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ان میں انتقامی قوت اس قدر بڑھ گئی تھی اور یہاں تک یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تھی کہ اگر باپ نے بدلہ نہیں لیا تو بیٹے اور اس کے پوتے تک کے فرائض میں یہ امر ہوتا تھا کہ وہ بدلہ لے۔اس وجہ سے ان میں کینه توزی کی عادت بڑھ گئی تھی اور وہ بہت سنگدل اور بے درد ہو چکے تھے۔عیسائیوں نے اس تعلیم کے مقابل یہ تعلیم دی کہ ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دو۔ایک کوس بیگار لے جاوے تو دو کوس چلے جاو وغیرہ۔اس تعلیم میں جو نقص ہے وہ ظاہر ہے کہ اس پر عمل در آمد ہی نہیں ہو سکتا۔اور عیسائی گورنمنٹوں نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تعلیم ناقص ہے۔کیا یہ کسی عیسائی کی جرات ہو سکتی ہے کہ کوئی خبیث طمانچہ مار کر دانت نکال دے تو وہ دوسری گل پھیر دے کہ ہاں اب دوسرا دانت بھی نکال دو۔وہ خبیث تو اور بھی دلیر ہو جائے گا۔اور اس سے امن عامہ میں خلل واقع ہو گا۔پھر کیونکر ہم تسلیم کریں کہ یہ تعلیم عمدہ ہے۔یا خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو سکتی ہے۔اگر اس پر عمل ہو تو کسی ملک کا بھی انتظام نہ ہو سکے۔ایک ملک ایک دشمن چھین لے تو دوسرا خود حوالے کرنا پڑے۔ایک افسر گرفتار ہو جاوے تو دس اور دے دیئے جاویں۔یہ نقص ہیں جو ان تعلیموں میں ہیں۔اور یہ صحیح نہیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ یہ احکام بطور قانون مختصق الزمان جب وہ زمانہ گزر گیا۔تو دوسرے لوگوں کے حسب حال وہ رہی۔یہودیوں کا وہ زمانہ تھا کہ وہ چار سو برس تک غلامی میں رہے اور اس غلامی کی زندگی تعلیم نہ