مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 632

مسیحی انفاس — Page 423

آتے۔انجیل کی ساری تعلیم ایک ہی طرف جھکی ہوئی ہے اور انسان کی کل قوتوں کی مرتی نہیں ہو سکتی۔اول تو کفارہ کا مسئلہ مان کر پھر حقوق العباد کے اختلاف سے بچنے کے لئے کوئی وجہ ہی نہیں مل سکتی ہے۔کیونکہ جب یہ مان لیا گیا ہے کہ مسیح کے خون نے گناہوں کی نجاست کو دور کر دیا ہے اور دھو دیا ہے۔حالانکہ عام طور پر بھی خون سے کوئی نجاست دور نہیں ہو سکتی ہے تو پھر عیسائی بتائیں کہ وہ کونسی بات ہے جو حقیقت میں انہیں روک سکتی ہے کہ وہ دنیا میں فساد نہ کریں اور کیونکر یقین کریں۔چوری کرنے۔بیگانہ مال لینے۔ڈاکہ زنی۔خون کرنے۔جھوٹی گواہی دینے پر کوئی سزا ملے گی۔اگر باوجود کفارہ پر ایمان لانے کے بھی گناہ گناہ ہی ہیں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کفارہ کے کیا معنی ہیں۔اور عیسائیوں نے کیا پایا۔غرض حقوق العباد کو پورے طور پر ادا کرنے اور بجالانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف قوتوں کا ملک بنا کر بھیجا تھا اور اس سے منشا ہی تھا کہ اپنے محل پر ہم ان قوتوں سے کام لے کر نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں۔مگر انجیل کا سلر از ور علم اور نرمی ہی کی قوت پر ہے حالانکہ یہ قوت بعض موقعوں پر زہر قاتل کی تاثیر رکھتی ہے۔اس لئے ہماری یہ تمدنی زندگی جو مختلف طبائع کے اختلاط اور ترکیب سے بنی ہے۔اپنی ترکیب اور صورت ہی میں بالطبع یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قولی کو محل اور موقعہ پر استعمال کریں۔لیکن انجیل محل اور موقعہ شناسی کو تو پس پشت ڈالتی ہے اور اندھا دھند ایک ہی امر کی تعلیم دیتی ہے۔کیا ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینا عملی صورت میں بھی آسکتا ہے۔اور کرتہ مانگنے والے کو چغہ دینے والے آپ نے بھی دیکھے ہیں اور کیا کوئی آدمی جو انجیل کی تعلیم کا عاشق زار ہو کبھی گوارا کر سکتا ہے کہ کوئی شریر اور نابکار انسان اس کی بیوی پر حملہ کرے تو وہ لڑکی بھی پیش کر دے ؟ ہر گز نہیں۔جس طرح پر ہم کو اپنے جسم کی صحت اور صلاحیت کے لئے ضرور ہے کہ مختلف قسم کی غذائیں موسم اور فصل کے لحاظ سے کھائیں اور مختلف قسم کے لباس پہنیں ویسے ہی روح کی صلاحیت اور اس کی قوتوں اور خواص کے نشوو نما کے واسطے لازم ہے کہ اس قاعدہ کو مد نظر رکھیں۔جسمانی تمدن میں جس طرح پر گرم سرد - نرم سخت۔حرکت و سکون کی رعایت رکھنی ضروری ہے۔اسی طرح پر روحانی صحت کے لئے مختلف قوتوں کا عطا مسلم سلام