مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 632

مسیحی انفاس — Page 422

۴۲۲ الحکم جلد ۳ نمبر ا صفحه ۸ مورخه ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ء بائیل اور سائنس کی آپس میں ایسی عداوت ہے جیسی کہ دو سو کنیں ہوتی ہیں۔بائیل میں لکھا ہے کہ وہ طوفان ساری دنیا میں آیا اور کشتی تین سو ہاتھ لمبی اور بائبل اور سائنس پچاس ہاتھ چوڑی تھی۔اور اس میں حضرت نوح نے ہر قسم کے جانوروں میں سے سات جوڑے اور ناپاک میں سے دو جوڑے ہر قسم کے کشتی میں چڑہائے۔حلانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اول تو اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جب تک پہلے رسول کے ذریعہ سے اس کو تبلیغ نہ کی ہو۔اور حضرت نوع کی تبلیغ ساری دنیا کی قوموں پر کہاں پہنچی تھی جو سب غرق ہو جاتے۔دوم اتنی چھوٹی سی کشتی میں جو صرف ۳۰۰ ہاتھ لمبی اور ۵۰ ہاتھ چوڑی ہو۔ساری دنیا کے جانور بہائم چرند پرند سات سات جوڑے یا دو دو جوڑے کیونکر سما سکتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب میں تحریف ہے اور اس میں بہت سی غلطیاں داخل ہو گئیں ہیں۔تعجب ہے کہ سادہ لوح علماء اسلام نے بھی ان باتوں کو اپنی کتابوں میں درج کر لیا ہے۔مگر قرآن شریف ہی ان بے معنی باتوں سے پاک ہے۔اس پر ایسے اعتراض وارد نہیں ہو سکتے۔اس میں نہ تو کشتی کی لمبائی چوڑائی کا ذکر ہے اور نہ ساری دنیا پر طوفان آنے کا ذکر ہے۔بلکہ صرف الارض یعنی وہ زمین جس میں نوح نے تبلیغ کی۔صرف اس کا ذکر ہے۔اراراٹ جس پر نوح کی کشتی ٹھہری اصل اری ریت ہے۔جس کے معنی ہیں۔میں پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں۔ریت پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے لفظ جو دی رکھا ہے۔جس کے معنی ہیں میرا جود و کرم یعنی وہ کشتی میرے جود و کرم پر ٹھہری۔ملفوظات۔جلد ۲ صفحہ ۳۲۲، ۳۲۳ مذہب کا خلاصہ دوہی باتیں ہیں۔اور اصل میں ہر مذہب کا خلاصہ ان دو ہی باتوں پر آکر ٹھیرتا ہے یعنی حق اللہ اور حق العباد۔مذہب کا خلاصہ ، عیسائیوں نے ان دونوں حقوق الله و حقوق اصولوں میں سخت بیہودہ بین ظاہر کیا ہے۔حق اللہ میں تو دیکھ لیا۔کہ انہوں نے اس خدا کو چھوڑ دیا جو موسیٰ اور دیگر راست بازوں اور پاکیزہ لوگوں پر ظاہر ہوا تھا اور ایک عاجز انسان کو خدا بنا لیا اور حقوق العباد کی وہ مٹی پلید کی کہ کسی طرح وہ درست ہونے میں نہیں