مسیحی انفاس — Page 421
۴۲۱ امام کا کہ اس نے از سر نو اس تعمیر کی تجدید فرمائی۔الحکم- جلد۵ نمبر ۴۱ صفحه ۳ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۱ء کثرت ازدواج پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے بہت عورتوں کی اجازت دی راندن ہے۔ہم کہتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا دلیر اور مرد میدان معترض ہے جو ہم کو یہ دکھلا سکے۔کہ تعدد از رواج قرآن کہتا ہے ضرور ضرور ایک سے زیادہ عورتیں کرو۔ہاں یہ ایک سچی بات ہے اور بالکل طبعی امر ہے کہ اکثر اوقات انسان کو ضرورت پیش آجاتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ عورتیں کرے۔مثلاً عورت اندھی ہو گئی یا کسی اور خطرناک (مرض) میں مبتلا ہو کر اس قابل ہو گئی کہ خانہ داری کے امور سر انجام نہیں دے سکتی۔اور مرد از راہ ہمدردی یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسے علیحدہ کرے۔یار خم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر مرد کی طبعی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتی۔تو ایسی صورت میں اگر نکاح ثانی کی اجازت نہ ہو تو بتلاؤ کیا اس سے بدکاری اور بد اخلاق کو ترقی نہ ہوگی ؟ پھر اگر کوئی مذہب و شریعت کثرت ازدواج کو روکتی ہے تو یقیناً وہ بدکاری اور بداخلاقی کی مؤید ہے۔لیکن اسلام جو دنیا سے بد اخلاقی اور بدکاری کو دور کرنا چاہتا ہے اجازت دیتا ہے کہ ایسی ضرورتوں کے لحاظ سے ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ایسا ہی اولاد کے نہ ہونے پر جب کہ لاولد کے پس مرگ خاندان میں بہت سے ہنگامے اور کشت و خون ہونے کی نوبت پہنچ جاتی ہے ایک ضروری امر ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کر کے اولاد پیدا کرے۔بلکہ ایسی صورت میں نیک اور شریف بیبیاں خود اجازت دے دیتی ہیں۔پس جس قدر غور کرو گے یہ مسئلہ صاف اور روشن نظر آئے گا۔عیسائی کو تو حق ہی نہیں پہنچتا کہ اس مسئلہ پر نکتہ چینی کرے۔کیونکہ ان کے مسلمہ نبی اور ملہم بلکہ حضرت مسیح علیہ السّلام کے بزرگوں نے سات سات سو اور تین تین سو بیبیاں کیں۔اور اگر وہ کہیں کہ وہ فاسق فاجر تھے۔تو پھر ان کو اس بات کا جواب دینا مشکل ہو گا کہ ان کے الہام خدا کے الہام کیونکر ہو سکتے ہیں۔عیسائیوں میں بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو نبیوں کی شان میں ایسی گستاخیاں جائز نہیں رکھتے۔علاوہ ازیں انجیل میں صراحت سے اس مسئلہ کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔لنڈن کی عورتوں کا زور ایک باعث ہو گیا کہ دوسری عورت نہ کریں۔پھر اس کے نتائج خود دیکھ لو کہ لنڈن اور پیرس میں عفت اور تقوی کی کیسی قدر ہے۔