مسیحی انفاس — Page 419
۴۱۹ سر چشمہ سے قریب ہونا پڑتا ہے۔وہ یہ کہ ممکن ہے کہ ایک سادہ دل انسان ایک یہ شخص کے حسن و جمال کو دیکھ کر اس پر شیدا اور فریفتہ ہو جائے اور پھر ہر دم ناپاک خیال دل میں پیدا ہونے لگیں۔پس اس تعلیم کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ ایک عمارت مثلاً دریا کے اس رخ کی طرف بنائی جائے جس طرف وہ دریا بڑے زور اور سیلاب کے ساتھ قدم بڑھا رہا ہے۔پس ایسی عمارت اگر دن کو نہیں گرے گی تورات کر ضرور گر جائے گی۔اسی طرح اگر کوئی عیسائی اس تعلیم سے عقل اور حیا اور انسانیت کے نور کے ہوتے ہوئے جو دن سے مشابہت رکھتا ہے بدی میں نہیں پڑے گا۔لیکن جوانی کی حالت اور جذبات نفس کے وقت میں خصوصاً جبکہ شراب کے پینے کی حالت میں شہوانی تاریکیوں کے ہجوم سے رات پڑ جائے۔ایسی حالت میں اس بے قیدی کی نظر کے بد نتائج سے ہر گز نہیں بچ سکے گا۔لیکن اس تعلیم کے مقابل پر وہ تعلیم جو قرآن شریف نے دی ہے وہ اس قدر اعلیٰ ہے جو دل بول اٹھتا ہے کہ ہاں یہ خدا کا کلام ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے - قُل لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَرِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ E یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم اور محل شہوت کے دیکھنے سے اپنی آنکھیں اس قدر بند رکھیں کہ پوری صفائی سے چہرہ نظر نہ آسکے اور نہ چہرہ پر کشادہ اور بے روک نظر پڑ سکے۔اور اس بات کے پابند رہیں کہ ہر گز آنکھ کو پورے طور پر کھول کر نہ دیکھیں نہ شہوت کی نظر سے اور نہ بغیر شہوت سے کیونکہ ایسا کرنا آخر ٹھوکر کا باعث ہے یعنی بے قیدی کی نظر سے نہایت پاک حالت محفوظ نہیں رہ سکتی اور آخر ابتلا پیش آتا ہے اور دل پاک نہیں ہو سکتا جب تک آنکھ پاک نہ ہو۔اور وہ مقام از کی جس پر طالب حق کے لئے قدم ملا نا مناسب ہے حاصل نہیں ہو سکتا۔اور اس آیت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ بدن کے ان تمام سوراخوں کو محفوظ رکھیں جن کی راہ سے بدی داخل ہو ہے۔سوراخ کے لفظ میں جو آیت ممدوح میں مذکور ہے۔آلات شہوت اور کان اور ناک اور منہ سب داخل ہیں۔اب دیکھو کہ یہ تمام تعلیم کس شان اور پایہ کی ہے جو کسی پہلو پر نامعقول طور پر افراط یا تفریط سے زور نہیں ڈالا گیا۔اور حکیمانہ اعتدال سے کام لیا