مسیحی انفاس — Page 418
۴۱۸ پر نظری۔وہ مالک یوم الدین ہے۔پھر اس سے دعامانگنے کی تعلیم کی ہے۔اور دعا جو مانگی گئی ہے وہ مسیح کی تعلیم کردہ دعا کی طرح صرف ہر روزہ روٹی کی درخواست نہیں۔بلکہ جو جو انسانی فطرت کو ازل سے استعداد بخشی گئی ہے اور اس کو پیاس لگا دی گئی ہے وہ دعا سکھلائی گئی ہے اور وہ یہ ہے۔اِهْدِنَا الصراط المستقيم صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ان کامل صفتوں کے مالک اور اے فیاض کہ ذرہ ذرہ تجھ سے پرورش پاتا ہے۔اور تیری ر حمانیت اور رحیمیت اور قدرت جزا سزا سے تمتع اٹھاتا ہے۔تو ہمیں گذشتہ ر است بازوں کا وارث بنا اور ہر ایک نعمت جو ان کو دی ہے۔ہمیں بھی دے۔اور ہمیں بچا کہ نافرمان ہو کر مورد غضب نہ ہو جائیں۔اور ہمیں بچا کہ ہم تیری مدد سے بے نصیب رہ کر گمراہ نہ ہو جاویں۔آمین اب اس تمام تحقیقات سے انجیل کی دعا اور قرآن کی دعا میں فرق ظاہر ہو گیا کہ انجیل تو خدا کی بادشاہت آنے کا وعدہ کرتی ہے۔مگر قرآن بتلاتا ہے کہ خدا کی بادشاہت تم میں موجود ہے۔نہ صرف موجود بلکہ عملی طور پر تم پر فیض بھی جاری ہیں۔غرض انجیل میں تو صرف ایک وعدہ ہی ہے۔مگر قرآن نہ محض وعدہ بلکہ قائم شدہ بادشاہت اور اس کے فیوض کو دکھلا رہا ہے۔اب قرآن کی فضیلت اس سے ظاہر ہے کہ وہ اس خدا کو پیش کرتا ہے جو اسی زندگی دنیا میں راست بازوں کا منجی اور آرام دہ ہے۔اور کوئی نفس اس کے فیض سے خالی نہیں۔بلکہ ہر ایک نفس پر حسب اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت کا فیض جاری ہے۔مگر انجیل اس خدا کو پیش کرتی ہے جو ابھی اس کی بادشاہت دنیا میں نہیں آئی۔صرف وعدہ ہے۔اب سوچ لو کہ عقل شمس کو قابل پیروی سمجھتی ہے۔حافظ شیرازی نے سچ کہا ہے کہ مرید پیر مغانم زمن مریج اے شیخ چرا کہ وعدہ تو کر دی داد بجا آورد کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۹ تا ۴۴ ایسا ہی انجیل کی یہ تعلیم کہ بد نظری سے کسی عورت کو مت دیکھو جس کا ماحصل یہ ہے کہ پاک نظر سے بیشک دیکھ لیا کرو۔یہ ایک ایسی تعلیم ہے کہ جو ایک بد نیت انسان کو بد نظری کا موقع دیتی ہے اور ایک نیک انسان کو امتحان میں ڈالتی ہے۔کیونکہ اس فتوی سے بد نظری کی عادت والے کو پناہ ملتی ہے۔اور ایک پرہیز گار کے دل کو بدی کے