مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 632

مسیحی انفاس — Page 417

روزانہ روٹی آج ہمیں بخش "مگر تعجب کہ جس کی ابھی تک زمین پر بادشاہت نہیں آئی۔وہ کیونکر روٹی دے سکتا ہے۔ابھی تک تو تمام کھیت اور تمام پھل نہ اس کے حکم ہے بلکہ خود بخود پکتے ہیں۔اور خود بخود بارشیں ہوتی ہیں۔اس کا کیا اختیار ہے کہ کسی کو روٹی دے۔جب بادشاہت زمین پر آجائے گی تب اس سے روٹی مانگنی چاہئے۔ابھی تک تو وہ ہر ایک زمینی چیز سے بیدخل ہے۔جب اس جائداد پر پور اقبضہ پائے گا تب کسی کو روٹی دے سکتا ہے۔اور اس وقت اس سے مانگنا بھی نازیبا ہے۔اور پھر اس کے بعد یہ قول کہ " جس طرح ہم اپنے قرض داروں کو بخشتے ہیں تو اپنے قرض ہمیں بخش دے۔اس صورت میں یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ زمین کی بادشاہت ابھی اس کو حاصل نہیں اور ابھی عیسائیوں نے کچھ اس کے ہاتھ سے لے کر کھایا نہیں تو پھر قرضہ کونسا ہوا۔پیس ایسے تہی دست خدا سے قرض بخشوانے کی کچھ ضرورت نہیں۔اور نہ اس سے کچھ خوف ہے۔کیونکہ زمین پر ابھی اس کی بادشاہت نہیں اور نہ اس کی حکومت کا تازیانہ کوئی رعب بٹھلا سکتا ہے۔کیا مجال کہ وہ کسی مجرم کو سزا دے سکے یا موسی کے زمانہ کی نافرمان قوم کی طرح طاعون سے ہلاک کر سکے۔یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھر بر سا سکے۔بازلزلہ یا بجلی یا کسی اور عذاب سے نافرمانوں کو نابود کر سکے۔کیونکہ ابھی خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔پس چونکہ عیسائیوں کا خدا ایسا ہی کمزور ہے جیسا کہ اس کا بیٹا کمزور تھا۔اور ایسا ہی بیدخل ہے جیسا کہ اس کا بیٹا بید خل تھاتو پھر اس سے ایسی دعائیں مانگنا لا حاصل ہیں کہ ہمیں قرض بخش دے۔اس نے کب قرض دیا تھا جو بخش دے۔کیونکہ ابھی تک تو اس کی زمین کے بادشاہت نہیں جب کہ اس کی زمین پر باد شاہت ہی نہیں تو زمین کی روئیدگی اس کے حکم سے نہیں اور زمینی چیزیں اس کی نہیں بلکہ خود بخود ہی ہیں۔کیونکہ اس کا زمین پر حکم نافذ نہیں۔اور جبکہ وہ زمین پر فرمانروا اور بادشاہ نہیں اور کوئی زمینی آسائش اس کے شاہانہ حکم سے نہیں۔تو اس کو سزا کا نہ اختیار ہے نہ حق حاصل ہے۔لہذا ایسا کمر ور اپنا خدا بناتا اور اس سے زمین پر رہ کر کسی کاروائی کی امید رکھنا حماقت ہے کیونکہ ابھی اس کی زمین پر بادشاہی نہیں۔لیکن سورہ فاتحہ کی دعا ہمیں سکھلاتی ہے کہ خدا کو زمین پر ہر وقت وہی اقتدار حاصل ہے جیسا کہ اور عالموں پر اقتدار حاصل ہے۔اور سورہ فاتحہ کے سرپر خدا کے ان کامل اقتداری صفات کا ذکر ہے جو دنیا میں کسی دوسری کتاب نے ایسی صفائی سے ذکر نہیں کیا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ رحمان ہے۔وہ رحیم ہے