مسیحی انفاس — Page 401
ساتھ مقابلہ کرلیں۔اگر آسمانی نشانوں کے ساتھ ان کی زندگی پاک ثابت ہو جائے تو میں ہر ایک سزا کا مستوجب ہوں اور ہر ایک ذلت کا سزاوار ہوں۔میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ روحانیت کے رو سے عیسائیوں کی نہایت گندی زندگی ہے اور وہ پاک خدا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے ان کی اعتقادی حالتوں سے ایسا متنفر ہے جیسا کہ ہم نہایت گندے اور سڑے ہوئے مردار سے متنفر ہوتے ہیں۔اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں اور اگر اس قول میں میرے ساتھ خدا نہیں تو نرمی اور آہستگی سے مجھ سے فیصلہ کر لیں۔میں پھر کہتا ہوں کہ ہر گز پاک زندگی عیسائیوں میں موجود نہیں ہے جو آسمان سے اترقی اور دلوں کو روشن کرتی ہے۔بلکہ جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں بعضوں میں فطرتی بھلا مانس ہونا اور عام قوموں کی طرح پایا جاتا ہے۔سو فطرتی شرافت سے میری بحث نہیں اس غربت اور شرافت کے لوگ ہر ایک قوم میں کم و بیش پائے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ بھنگی اور چہار بھی اس سے باہر نہیں۔لیکن میرا کلام آسمانی پاک زندگی میں ہے جو خدا کی زندہ کلام سے حاصل ہوتی اور آسمان سے اترقی اور اپنے ساتھ آسمانی نشان رکھتی ہے۔سو یہ عیسائیوں میں موجود نہیں۔پھر کوئی ہمیں سمجھائے کہ لعنتی قربانی کا فائدہ کیا ہوا ؟ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۴۰ تا ۳۴۴ ۲۷۳ قرآن شریف میں گناہ کو ہلکا نہیں سمجھا گیا۔بلکہ بار بار بتلایا گیا ہے کہ کسی کو بجر اس کے نجات نہیں کہ گناہ سے بچی نفرت پیدا کرے مگر انجیل نے بچی نفرت کی تعلیم نہیں دی۔انجیل نے ہر گز اس بات پر زور نہیں دیا کہ گناہ ہلاک کرنے والا زہر ہے۔اس کے عوض اپنے اندر کوئی تریاق پیدا کرو۔بلکہ اس متحرف انجیل نے نیکیوں کا عوض یسوع قرآن شریف نے گناہ کی خود کشی کو کافی سمجھ لیا ہے۔مگر یہ کیسی بیہودہ اور بھول کی بات ہے کہ حقیقی نیکی کے کے نفرت دلائی ہے حاصل کرنے کی طرف توجہ نہیں بلکہ انجیل کی یہی تعلیم ہے کہ عیسائی بنو اور جو چاہو کرو۔کفارہ ناقص ذریعہ نہیں ہے۔تاکسی عمل کی حاجت ہو۔اب دیکھو اس سے زیادہ بدی پھیلنے کا ذریعہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنے تئیں پاک نہ کرو اس پاک گھر میں داخل نہ ہو گے۔اور انجیل کہتی ہے کہ ہر یک