مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 632

مسیحی انفاس — Page 402

۴۰۲ بد کاری کر تیرے لئے یسوع کی خود کشی کافی ہے۔اب کس نے گناہ کو ہلکا سمجھا۔قرآن نے یا انجیل نے۔قرآن کا خدا ہر گز کسی کو نیک نہیں ٹھہراتا۔جب تک بدی کی جگہ نیکی نہ آجائے مگر انجیل نے اندھیر مچا دیا ہے۔کفارہ سے تمام نیکی اور راست بازی کے حکموں کو ہلکا اور بیچ کر دیا۔اور اب عیسائی کے لئے ان کی ضرورت نہیں۔حیف صد حیف۔افسوس صد افسوس۔نور القرآن۔حصہ دوم - روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۴۲۱ قرآن کوئی لعنتی قربانی پیش نہیں کرتا۔بلکہ ہر گز جائز نہیں رکھتا کہ ایک کا گناہ یا ایک کی لعنت کسی دوسرے پر ڈالی جائے چہ جائیکہ کروڑہا لوگوں کی لعنتیں اکٹھی کر کے ایک گناہ دور کرنے کے کے گلے میں ڈال دی جائیں۔قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ بارہ میں تعلیم لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى یعنی ایک کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا۔لیکن قبل اس کے جو میں مسئلہ نجات کے متعلق قرآنی ہدایت بیان کروں مناسب دیکھتا ہوں کہ عیسائیوں کے اس اصول کی غلطی لوگوں پر ظاہر کر دوں۔تاوہ شخص جو اس مسئلہ میں قرآن اور انجیل کی تعلیم کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے وہ آسانی سے مقابلہ کر سکے۔پس واضح ہو کہ عیسائیوں کا یہ اصول کہ خدا نے دنیا سے پیار کر کے دنیا کو نجات دینے کے لئے یہ انتظام کیا کہ نافرمانوں اور کافروں اور بد کاروں کا گناہ اپنے پیارے بیٹے یسوع پر ڈال دیا۔اور دنیا کو گناہ سے چھوڑانے کے لئے اس کو لعنتی بنایا۔اور لعنت کی لکڑی سے لٹکایا۔یہ اصول ہر ایک پہلو سے فاسد اور قابل شرم ہے۔اگر میزان عدل کے لحاظ سے اس کو جانچا جائے تو صریح یہ بات ظلم کی صورت میں ہے کہ زید کا گناہ بکر پر ڈال دیا جائے۔انسانی کانشنس اس بات کو ہر گز پسند نہیں کرتا کہ ایک مجرم کو چھوڑ کر اس مجرم کی سزا غیر محرم کو دی جائے۔اور اگر روحانی فلاسفی کے رو سے گناہ کی حقیقت پر غور کی جائے تو اس تحقیق کے رو سے بھی یہ عقیدہ فاسد ٹھہرتا ہے۔کیونکہ گناہ در حقیقت ایک ایساز ہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پر جوش محبت اور مجالنہ یاد الہی سے محروم اور بے نصیب ہو۔اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور