مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 632

مسیحی انفاس — Page 396

پھر خدا نے پنے کسی بندہ کو بھیجا تا نئے سرے اس کو روشن کر کے دکھلائے۔اسی طرح دنیا میں کبھی ظلمت کبھی نور غالب آتا رہا۔اور ہر ایک نبی کی شناخت کا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کا معیار ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس وقت آیا اور کس قدر اصلاح اس کے ہاتھ سے ظہور میں آئی۔چاہئے کہ حق طلبی کی راہ سے اس بات کو سوچیں اور شریروں اور متعصب لوگوں کے پر خیانت اقوال کی طرف توجہ نہ کریں اور ایک صاف نظر لے کر کسی نبی کے حالات کو دیکھیں کہ اس نے ظہور فرما کر اس زمانہ کے لوگوں کو کس حالت میں پایا اور پھر اس نے ان لوگوں کے عقائد اور چال چلن میں کیا تبدیلی کر کے دکھلائی تو اس سے ضرور پتہ لگ جائے گا کہ کون نبی اشد ضرورت کے وقت آیا اور کون اس سے کمتر۔نبی کی ضرورت گنہگاروں کے لئے بعینہ ایسی ہوتی ہے جیسا کہ طبیب کی ضرورت بیماروں کے لئے۔اور جیسا کہ بیماروں کی کثرت ایک طبیب کو چاہتی ہے ایسا ہی گنہگاروں کی کثرت ایک مصلح کو۔اب اگر کوئی اس قاعدہ کو ذہن میں رکھ کر عرب کی تاریخ پر نظر ڈالے کہ عرب کے باشندے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور سے پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہو گئے تو بلاشبہ وہ اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو قوت قدسی اور تاثیر قوی اور افاضہ برکات میں سب نبیوں سے اول درجہ پر سمجھے گا۔اور اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ضرورت کو تمام کتابوں اور نبیوں کی ضرورت سے بدیہی الثبوت یقین کرے گا۔مثلاً یسوع نے دنیا میں آکر دنیا کی کسی ضرورت کو پورا کیا ؟ اور اس کا ثبوت کیا ہے کہ اس نے کوئی ضرورت پوری کی ؟ کیا یہودیوں کے اخلاق اور عادات اور ایمان میں کوئی بھاری تبدیلی کر دی یا اپنے حواریوں کو تزکیہ نفس میں کمال تک پہنچا دیا ؟ بلکہ ان پاک اصلاحوں میں سے کچھ بھی ثابت نہیں۔اور اگر کچھ ثابت ہے تو صرف یہی که چند آدمی طمع اور لالچ سے بھرے ہوئے اس کے ساتھ ہو گئے۔اور انجام کار انہوں نے بڑی قابل شرم بیوفائیاں دکھلائیں۔اور اگر یسوع نے خود کشی کی تو میں اس سے زیادہ هرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ ایک ایسی ہو توئی کی حرکت اس سے صادر ہوئی جس سے اس کی انسانیت اور عقل پر ہمیشہ کے لئے داغ لگ گیا۔ایسی حرکت جس کو انسانی قوانین بھی ہمیشہ جرائم کے نیچے داخل کرتے ہیں۔کیا کسی عظمند سے صادر ہو سکتی ہے ؟ ! ہرگز نہیں۔پس ہم پوچھتے ہیں کہ یسوع نے کیا سکھلایا اور کیا دیا ؟ کیا وہ لعنتی قربانی جس کا ۳۹۶