مسیحی انفاس — Page 397
۳۹۷ عقل اور انصاف کے نزدیک کوئی بھی نتیجہ معلوم نہیں ہوتا۔یادر ہے کہ انجیل کی تعلیم میں کوئی نئی خوبی نہیں بلکہ یہ سب تعلیم توریت میں پائی جاتی ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کی کتاب طالموت میں اب تک موجود ہے۔اور یہودی فاضل اب تک روتے ہیں کہ ہماری پاک کتابوں سے یہ فقرے چرائے گئے ہیں۔چنانچہ حال میں جو ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس آئی ہے اس نے اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے کئی ورق لکھے ہیں اور بڑے زور سے اسناد پیش کئے ہیں کہ یہ فقرات کہاں کہاں سے چورائے گئے۔محقق عیسائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ در حقیقت انجیل یہودیوں کی کتابوں کے ان مضامین کا خلاصہ ہے جو حضرت مسیح کو پسند آئی۔لیکن بلا خریہ کہتے ہیں کہ مسیح کے دنیا میں آنے سے یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی نئی تعلیم لائے بلکہ اصل مطلب تو اپنے وجود کی قربانی دینا تھا یعنی وہی لعنتی قربانی جس کے بار بار کے ذکر سے میں اس رسالہ کو پاک رکھنا چاہتا ہوں۔غرض عیسائیوں کو یہ دھو کا لگا ہوا ہے کہ شریعت توریت تک مکمل ہو چکی۔اس لئے یسوع کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ نجات دینے کے سامان لے کر آیا اور قرآن نے ناحق پھر ایسی شریعت کی بنیاد ڈال دی جو پہلے مکمل ہو چکی تھی۔یہی رہو کہ عیسائیوں کے ایمان کو کھا گیا ہے۔مگر یاد رہے کہ یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ انسان نہو و نسیان سے مرکب ہے اور نوع انسان میں خدا کے احکام عملی طور پر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے۔اس لئے ہمیشہ نئے یاد دلانے والے اور قوت دینے والے کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن قرآن شریف ان ہی دو ضرورتوں کی وجہ سے نازل نہیں ہوا۔بلکہ وہ پہلی تعلیموں کا در حقیقت متمم اور مکمل ہے۔مثلاً توریت کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے زیادہ تر قصاص پر ہے اور انجیل کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے عفو اور صبر اور در گذر پر ہے۔اور قرآن ان دونوں صورتوں میں محل شناسی کی تعلیم دیتا ہے۔ایسا ہی ہر ایک یاب میں توریت افراط کی طرف گئی ہے اور انجیل تفریط کی طرف اور قرآن شریف وسط کی تو کر تا اور محل اور موقعہ کا سبق دیتا ہے۔گو نفس تعلیم تینوں کتابوں کا ایک ہی ہے۔مگر کسی نے کسی پہلو کو شدومد کے ساتھ بیان کیا اور کسی نے کسی پہلو کو۔اور کسی نے فطرت کیا انسانی کے لحاظ سے در میانہ راہ لیا جو طریق تعلیم قرآن ہے۔اور چونکہ محل اور موقعہ کا لحاظ رکھنا یہی حکمت ہے۔سو اس حکمت کو صرف قرآن شریف نے سکھلایا ہے۔توریت