مسیحی انفاس — Page 395
۳۹۵ مصائب کے وقت خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں یہی عادت اس کی ثابت ہوتی ہے ؟ افسوس کہ یہ لوگ دنیا سے محبت کر کے کیسے آفتاب پر تھوک رہے ہیں۔ایک ناچیز انسان کو خدا بھی کہتے ہیں اور پھر ملعون بھی۔اور اس عظیم الشان نبی کے وجود سے انکار کر رہے ہیں کہ جو ایسے وقت میں آیا۔جبکہ نوع انسان مردہ کی طرح ہو رہی تھی۔اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن کی ضرورت کیا تھی۔اے غافلو ! اور دلوں کے اند ھو ! قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا۔اس نے دنیا کو اندھا پایا اور روشنی بخشی۔اور گمراہ پایا اور ہدایت دی۔اور مردہ پایا اور جان عطا فرمائی۔تو کیا ابھی ضرورت ثابت ہونے میں کچھ کسر رہ گئی ؟ اور اگر یہ کہو کہ توحید تو پہلے بھی موجود تھی قرآن نے نئی چیز کون سی دی ؟ تو اس سے اور بھی تمہاری عقل پر رونا آتا ہے۔میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توحید پہلی کتابوں میں ناقص طور پر تھی اور تم ہر گز ثابت نہیں کر سکتے کہ کامل تھی۔ماسوا اس کے توحید دلوں سے بکلی گم ہو گئی تھی قرآن نے اس توحید کو پھر یاد دلایا اور اس کو کمال تک پہنچایا۔قرآن کا نام اسی لئے ذکر ہے کہ وہ یاد دلانے والا ہے۔ذرہ آنکھ کھول کر سوچو کہ کیا توریت نے جو کچھ توحید کے بارے میں بیان کیا تھا۔وہ ایسی نئی بات تھی جو پہلے نبیوں کو اس کی خبر کیا تھی۔کیا یہ سچ نہیں کہ سب سے پہلے آدم کو اور پھر شیث اور نوح اور ابراہیم اور دوسرے رسولوں کو جو موسیٰ سے پہلے آئے توحید کی تعلیم ملی تھی ؟ پس یہ توریت پر بھی اعتراض ہے کہ اس نے نئی چیز کونسی پیش کی۔اے سج دل قوم ! خدا ر و ز روز نیا نہیں ہو سکتا۔موسیٰ کے وقت میں وہی خدا تھا جو آدم اور شیث اور نوح اور ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور یوسف کے وقت میں تھا۔اور توریت نے وہی توحید کے بارے میں بیان کیا جو پہلے نبی کرتے آئے۔اب اگر یہ سوال ہو کہ کیوں توریت نے اسی پورانی توحید کا ذکر کیا تو اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کی ہستی اور واحدانیت کا مسئلہ توریت سے شروع نہیں ہوا بلکہ قدیم سے چلا آتا ہے۔ہاں بعض زمانوں میں ترک عمل کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نظر میں حقیر اور ذلیل ضرور ہو تا رہا ہے۔پس خدا کی کتابوں اور خدا کے نبیوں کا یہ کام تھا کہ وہ ایسے وقتوں میں آتے رہے ہیں کہ جب اس مسئلہ توحید پر لوگوں کی توجہ کم رہ گئی ہو۔اور طرح طرح کے شرکوں میں وہ مبتلا ہو گئے ہوں۔یہی مسئلہ دنیا میں ہزاروں دفعہ صیقل ہوا اور ہزاروں دفعہ پھر زنگ خوردہ کی طرح ہو کر لوگوں کی نظروں سے چھپ گیا۔اور جب چھپ گیا تو