مسیحی انفاس — Page 384
سمسم ۲۶۲ توریت توحید کے بیان کرنے میں ناقص تھی اور انجیل بھی ناقص تھی جس کے ص تھی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ عیسائیوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا لیا۔اگر توریت اور انجیل میں وہ تعلیم موجود ہوتی جو قرآن شریف میں موجود ہے تو ہر گز ممکن نہ تھا کہ اس طرح پر عیسائی گمراہ ہو توحید کے لحاظ سے جاتے۔ناقص چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۶۸ جاننا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل خیال کرنا سراسر نقصان عقل اور کم فہمی ہے۔خود حضرت مسیح نے انجیل کی تعلیم کو مترا عن النقصان نہیں سمجھا جیسا کہ انہوں نجیل کی تعلیم کسی نے نے آپ فرمایا ہے کہ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں۔پر تم ان کی خود ناقص قرار دیا۔برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح الحق آویگا تو وہ تمہیں صداقت کا راستہ بتلادے گا۔انجیل یوحناباب ۱۶۔آیت ۱۲، ۱۳، ۱۴۔اب فرمائے کیا یہی انجیل ہے کہ جو تمام دینی صداقتوں پر حاوی ہے جس کے ہوتے ہوئے قرآن شریف کی ضرورت نہیں۔اے حضرات !! جس حالت میں آپ لوگ حضرت مسیح کی وصیت کے موافق انجیل کو کامل اور تمام صداقتوں کے جامع کہنے کے مجاز ہی نہیں۔تو پھر آپ کا ایمان بھی عجب ایمان ہے کہ اپنے استاد اور رسول کے بر خلاف قدم چلا رہے ہیں۔اور جس کتاب کو یہ حضرت مسیح ناقص کہہ چکے ہیں اس کو کامل کہے جاتے ہیں۔کیا آپ کی سمجھ میچ کی سمجھ سے کچھ زیادہ ہے یاسیج کا کہنا قابل اعتبار نہیں۔اور اگر آپ یہ کہیں کہ اگر چہ انجیل مسیح کے زمانہ میں ناقص تھی۔مگر مسیح نے یہ بھی بطور پیش گوئی کے کہہ دیا تھا کہ جو باتیں میرے بیان کرنے سے رہ گئی ہیں ان کو تسلی دہندہ آکر بیان کر دے گا تو بہت خوب۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ تسلی دہندہ جس کے آنے کی مسیح نے انجیل میں بشارت دی ہے اور جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ اپنی دینی صداقتوں کو مرتبہ کمال تک پہنچائے گا اور آئندہ کے گلاور حلات یعنی قیامت کی خبریں انجیل کی نسبت بہت مفصل بیان کرے گا۔آپ کے خیال میں بجز حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن شریف نازل ہوا کہ جو سب کتب سابقہ کی نسبت کامل ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اس کا ثبوت دیتا ہے۔کوئی اور شخص ہے جس نے حضرت مسیح کے بعد ظہور کر کے دینی صداقتوں کو کمال کے مرتبہ تک پہنچایا۔اور آئندہ کی خبریں مسیح کی نسبت زیادہ بتلائیں تو اس کا نام بتلانا چاہئے۔اور ایسی