مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 632

مسیحی انفاس — Page 385

۳۸۵ کو پیش کرنا چاہئے کہ جو مسیح کے بعد عیسائیوں کو خدا کی طرف سے ملی جس نے وہ اپنی صداقتیں پیش کیں کہ جو مسیح کی فرمودہ ہیں موجود نہ تھیں اور آخری حالات اور آئندہ کی خبریں بتلائیں جن کے بتلانے سے صحیح قاصر رہا۔تا اسی کتاب کو قرآن شریف کے مقابلہ پر وزن کیا جائے۔مگر یہ تو زیبا نہیں کہ آپ لوگ مسیح کے پیرو کہلا کر پھر اس چیز کو کامل قرار دیں جس کو آپ سے اٹھارہ سو بیاسی برس پہلے مسیح ناقص قرار دے چکا ہے۔اور اگر میچ کے قول پر ایمان اگر آپ کا مسیح کے قول پر ایمان ہی نہیں۔اور بذات خود چاہتے ہیں کہ انجیل کا قرآن نہیں تو قرآن شریف اور شریف سے مقابلہ کریں تو بسم اللہ آئے اور انجیل میں سے وہ کملات نکال کر دکھلائیے کہ انجیل کا مقابلہ جو ہم نے اسی کتاب میں قرآن شریف کی نسبت ثابت کئے ہیں تا منصف لوگ آپ ہی دیکھ کریں۔لیں کہ معرفت الہی کے سامان قرآن شریف میں موجود ہیں یا انجیل میں۔جس حالت میں ہم نے اسی فیصلہ کے لئے کہ تا انجیل اور قرآن شریف کی نسبت فرق معلوم ہو جائے دس ہزار روپیہ کا اشتہار بھی اپنی کتاب کے ساتھ شامل کر دیا ہے تو پھر آپ جب تک ر است بازوں کی طرح اب ہماری کتاب کے مقابلہ پر اپنی انجیل کے فضائل نہ دکھلاویں تب تک کوئی دانشمند عیسائی بھی آپ کی کلام کو اپنے دل میں صحیح نہیں سمجھے گا۔گو زبان سے ہاں ہاں کر تار ہے۔حضرات آپ خوب یادرکھیں کہ انجیل اور توریت کا کام نہیں کہ کملات فرقانیہ کا مقابلہ کر سکیں۔دور کیوں جائیں انہیں دو امروں میں کہ جواب تک اس کتاب میں فضائل فرقانیہ میں سے بیان ہو چکے ہیں مقابلہ کر کے دیکھ لیں یعنی اول وہ امر کہ جو متن میں تحریر ہو چکا ہے کہ فرقان مجید تمام الہی صداقتوں کا جامع ہے اور کوئی محقق اور کوئی ایسا بار یک دقیقہ انہیات کا پیش نہیں کر سکتا جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔سو آپ کی انجیل اگر کچھ حقیقت رکھتی ہے تو آپ پر لازم ہے کہ کسی مختلف فریق کے دلائل اور عقائد کو مثلاً برہمو سماج والوں یا آریہ سماج والوں یا دہریہ کے شبہات کو انجیل کے ذریعہ عقلی طور پر رد کر کے دکھلاو۔اور جو جو خیالات ان لوگوں نے ملک میں پھیلا رکھے ہیں ان کو اپنی انجیل کے معقولی بیان سے دور کر کے پیش کرو۔اور پھر قرآن شریف سے انجیل کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔اور کسی ثالث سے پوچھ لو کہ محققانہ طور پر انجیل تسلی کرتی ہے یا قرآن شریف تسلی کرتا ہے۔دوسرے یہ کہ قرآن شریف باطنی طور پر طالب صادق کا مطلوب حقیقی سے پیوند کرا دیتا ہے اور پھر وہ طالب خدائے تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہو کر اس کی طرف سے الہام پاتا ہے جس الہام میں عنایات