مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 632

مسیحی انفاس — Page 375

۳۷۵ جاتی ہیں۔ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی پیروی میں کچھ بھی برکت نہیں۔خدا کا جلال اس شخص کو ہر گز نہیں ملتا جوان انجیلوں کی پیروی کرتا ہے۔بلکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کو بد نام کر رہی ہیں۔کیونکہ ایک طرف توان انجیلوں میں بچے عیسائی کی یہ علامتیں ٹھہرائی گئی ہیں کہ وہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے پر قادر ہو۔اور دوسری طرف عیسائیوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک مردہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک ذرہ آسمانی برکت ان کے ساتھ نہیں اور کوئی نشان نہیں دکھلا سکتے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۴۱ ، ۱۴۲ ۱۲۵۵ موجودہ انجیل کے اصلی نہ ہونے کے لئے ایک بڑی بھاری دلیل یہ ہے۔کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر ایک نبی کو ہم اس کی قوم کی زبان میں اس کی طرف بھیجتے ہیں۔اب موجودہ انجیل ظاہر ہے کہ یہود کی زبان عبرانی تھی۔حالانکہ عبرانی میں اس وقت کوئی انجیل اصلی نہیں ملتی بلکہ اصل یونانی کو قرار دیا جاتا ہے جو کہ سنت اللہ کے برخلاف ہے۔ملفوظات۔جلد ۲ صفحہ ۳۱۹ تالاب کے اس قصہ نے جو انا جیل میں درج ہے مسیحی مجرات کی حقیقت کو اور بھی مشتبہ کر دیا ہے اور ساری رونق کو دور کر دیا ہے۔اسی لئے عماد الدین جیسے عیسائیوں کو ماننا پڑا ہے کہ تالاب والا قصہ الحاقی ہے۔لیکن انجیل کے ان نادان دوستوں نے اتنا خیال اطلاق قصہ الحاقی باب نہیں کیا کہ اس باب کو محض الحاقی کہہ دینے سے مسیحی معجزات کی گئی ہوئی رونق نہیں آسکتی۔بلکہ انجیل کو اور بھی مشتبہ قرار دینا ہے کیونکہ پھر اس بات کا کیا جواب ہے جس انجیل میں ایک باب الحاقی ہو اور حصہ اس کا الحاقی نہ ہو۔اور جب کہ نسب نامہ کو الحاقی کہنے والے بھی موجود ہیں۔پھر اس تالاب جیسے چشمے اور ملکوں میں بھی پائے جاتے ہیں یورپ کے اکثر ممالک میں ایسے چشمے ہیں جہاں جاکر اکثر امراض کے مریض شفا پاتے ہیں۔کشمیر میں بھی بعض چشموں کا پانی ایسا ہی ہے جن میں گندھک کا پانی اور نمک اور اور اس قسم کے اجزاء ملے ہوئے ہوتے ہیں۔پس وہ معجزہ نما تالاب مسیح کے سارے منجزات پر پانی پھیرتا ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ مسیح کا اس تالاب پر جاتا اور اس کی مٹی کا آنکھوں پر لگانا اور اپنے پاس رکھنا بھی بیان کیا جاتا ہے۔اور پھر