مسیحی انفاس — Page 368
۲۵۱ شہادتیں۔کے لئے ان کے گلے کا ہار ہو جائے۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۵ تا ۸۷ افسوس کہ بعض پادری صاحبان نے اپنی تصنیفات میں حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اس واقعہ کی تفسیر میں کہ جب ان کو ایک پہاڑی پر شیطان لے گیا۔اس قدر جرات اناجیل ال جیل کے غیر معقد کی ہے کہ وہ لکھتے ہیں۔یہ کوئی خارجی بات نہ تھی جس کو دنیا دیکھتی اور جس کو یہودی بھی مشاہدہ کرتے۔بلکہ یہ تین مرتبہ شیطانی الہام حضرت مسیح کو ہوا تھا۔جس کو انہوں نے قبول نہ کیا۔مگر انجیل کی ایسی تفسیر سننے سے ہمارا تو بدن کانپتا ہے کہ مسیح اور پھر شیطانی الہام۔ہاں اگر اس شیطانی گفتگو کو شیطانی الہام نہ مانیں اور یہ خیال کریں کہ در حقیقت شیطان نے مجسم ہو کر حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات کی تھی تو یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطان نے جو پرانا سانپ ہے فی الحقیقت اپنے تئیں جسمانی صورت میں ظاہر کیا تھا۔اور وجود خارجی کے ساتھ آدمی بن کر یہودیوں کے ایسے متبرک معبد کے پاس اگر کھڑا ہو گیا تھا جس کے ارد گرد صدہا آدمی رہتے تھے۔تو ضرور تھا کہ اس کے دیکھنے کے لئے ہزاروں آدمی جمع ہو جاتے۔بلکہ چاہئے تھا کہ حضرت مسیح آواز مار کر یہودیوں کو شیطان دکھلا دیتے۔جس کے وجود کے کئی فرقے منکر تھے۔اور شیطان کا دکھلا دینا حضرت مسیح کا ایک نشان ٹھہرتا۔جس سے بہت آدمی ہدایت پاتے اور رومی سلطنت کے معزز عہدہ دار شیطان کو دیکھ کر اور پھر اس کو پرواز کرتے ہوئے مشاہدہ کر کے ضرور حضرت مسیح کے پیرو ہو جاتے مگر ایسانہ ہوا۔اس سے یقین ہوتا ہے کہ یہ کوئی روحانی مکالمہ تھا جس کو دوسرے لفظوں میں شیطانی الہام کہہ سکتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ بھی آتا ہے کہ یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے شریر انسانوں کا نام بھی شیطان رکھا گیا ہے۔چنانچہ اسی محاورہ کے لحاظ سے مسیح نے بھی ایک اپنے بزرگ حواری کہ جس کو انجیل میں اس واقعہ کی تحریر سے چند سطری پہلے بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں۔شیطان کہا ہے۔پس یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ کوئی یہودی شیطان اور ٹھٹھے اور ہنسی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس آیا ہو گا۔اور آپ نے جیسا کہ بیطرس کا نام شیطان رکھا۔اس کو بھی شیطان کہہ دیا ہو گا۔اور یہودیوں میں اس قسم کی شرارتیں بھی تھیں۔اور ایسے سوال کرنا یہودیوں کا خاصہ ہے۔اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ سب قصہ