مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 632

مسیحی انفاس — Page 360

۳۶۰ ۲۴۲ اناجیل ہے کہ انجیل خالص خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ پتے داری گانو کی طرح کچھ خدا کا کچھ انسان کا ہے۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۹۳ تا ۳۹۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳ ہے یو تاباب ۲ آیت ۲۰ میں ہے کہ یہودیوں کو مسیح نے کہا تھا کہ ہیکل چھیالیس برس میں اکا خیل عقلی دلائل اور بنائی گئی ہے۔مگر یہودیوں کی کتابوں میں بتواتر یہ درج ہے کہ صرف آٹھ برس تک آسمانی نشانوں سے بے نصیب ہیں۔ہیکل طیار ہو گئی تھی۔چنانچہ اب تک وہ کتابیں موجود ہیں۔پس یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ یہودیوں نے مسیح کو ایسا کہا تھا۔اور خود یہ بات قرین قیاس بھی نہیں کہ ایسی مختصر عمارت جس کے بنانے کے لئے نہایت سے نہایت چند سال کافی تھے وہ چھیالیس برس تک بنتی رہی ہو۔سو ایسے ایسے جھوٹھ انجیلوں میں ہیں جن کی وجہ سے ان کے مضامین قابل تمسک نہیں۔مثلاً دیکھو کہ انجیل یوحنا باب ۱۴ آیت ۳۴ میں لکھا۔کو کہ میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔حالانکہ یہ نیا نہیں۔کیونکہ اخبار کی کتاب باب ۱۹ آیت ۱۸ میں یہی حکم لکھا ہے پھر وہ نیا کیونکر ہو گیا۔تعجب کہ یہی انجیلیں ہیں جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ وہ پا یہ اعتبار کے رو سے پایہ احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ کر ہیں۔اور ظاہر ہے کہ جن کتابوں میں ایسے قابل شرم جھوٹ ہیں ان کو اسلام کی کتب احادیث سے کیا نسبت ہے۔ریلینڈ صاحب اپنی کتاب اکاؤنٹ آف محمد نزم میں لکھتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مجربات نہایت مشہور عالم پر ہیز گار اور دانا محمدی فاضلوں نے اپنی بیشمار کتابوں میں درج کئے ہیں اور یہ فاضل ایسے تھے کہ کسی بات کو بغیر سخت امتحان اور بے انتہا جانچ پڑتال کے نہیں لیتے تھے اسی لئے ان کی روایات اس قابل نہیں کہ ان میں شک کیا جائے۔تمام ملک پر۔عرب میں وہ مشہور ہیں۔اور وہ واقعات عام طور پر باپ سے بیٹے کو اور ایک پشت سے دوسری پشت کو پہنچے ہیں۔اسلام کی ہر ایک قسم کی کتابیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معجزات پر گواہی دیتی ہیں۔پھر اگر اتنے بڑے اور دانا فاضلوں کی سند کو تسلیم نہ کیا جائے تو پھر منجزات کے واسطے اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسی باتوں کے ثبوت کے لئے جو کہ ہمارے زمانہ سے پہلے یا ہماری نظروں سے دور واقع ہوئی ہیں صرف سندیں