مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 632

مسیحی انفاس — Page 361

ذریعہ ہیں۔اور اگر ان سندوں کا انکار کیا جائے تو تمام تاریخی حالات قابل شک ہو جاتے ہیں۔اور پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ یہ معجزات واقعی طور پر بچے تھے یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر نبی اسلام نے (صلی اللہ علیہ وسلم) نہایت سخت لعنت کی ہے کہ جو جھوٹے طور پر آپ کی طرف معجزات منسوب کریں بلکہ صاف طور پر کہا ہے کہ جو میرے پر جھوٹ بولے اس کی سزا جہنم ہے۔پس یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایسی سخت ممانعت کے بعد اس قدر جھوٹے معجزات بنائے جاتے۔" پھر وہی مولف لکھتا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر معزز گواہیاں اور سندیں نئی اسلام کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں ایک عیسائی کی قدرت نہیں کہ ایسی گواہیاں یسوع کے معجزات کے ثبوت میں عہد جدید سے پیش کر سکے۔اور اس سے زیادہ یا اس سے بہتر سندیں لاسکے۔" غرض فاضل عیسائی نے کسی قدر انصاف سے کام لے کر یہ تحریر کیا ہے۔مگر پھر بھی اسلام کے فضائل اور اس کی سچائی کے ثبوت بیان کرنے کے لئے اسی قدر نہیں ہے جو بیان کیا گیا۔کیونکہ قرآن شریف نے باوجود اس کے کہ اس کے عقائد کو دل مانتے ہیں اور ہر ایک پاک کانشنس قبول کرتا ہے پھر بھی ایسے معجزات پیش نہیں کئے کہ کسی آئندہ صدی کے لئے قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہو جائیں بلکہ ان عقائد پر بہت سے عقلی دلائل بھی قائم کئے اور قرآن میں وہ انواع و اقسام کی خوبیاں جمع کیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر معجزہ کی حد تک پہنچ گیا۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۹۰، ۹۱ ہاں دوسری الہامی کتابیں کہ جو متحرف و مبدل ہیں ان میں نامعقول اور محال باتوں پر جمے رہنے کی تاکید پائی جاتی ہے جیسی عیسائیوں کی انجیل شریف۔مگر یہ الہام کا قصور نہیں۔یہ بھی حقیقت میں عقل ناقص کا ہی قصور ہے۔اگر باطل پرستوں کی عقل صحیح انجیل میں نا معقول اور ہوتی اور حواس درست ہوتے تو وہ کا ہے کو ایسی محترف اور مبدل کتابوں کی پیروی کرتے حمل باتوں پر تے رہنے ہے۔جمے اور کیوں غیر متغیر اور کامل اور قدیم خدا پر یہ آفات اور مصیبتیں جائز رکھتے کہ گویا وہ ایک کی تائید پائی جاتی عاجز بچہ ہو کر نا پاک غذا کھاتا رہا۔اور ناپاک جسم سے مجسم ہوا اور نا پاک راہ سے نکلا۔اور دار الفنامیں آیا۔اور طرح طرح کے دکھ اٹھا کر آخر بڑی بد بختی اور بد نصیبی اور نا کامی کی حالت میں ایلی ایلی کرتا مر گیا۔آخر الہام ہی تھا جس نے اس غلطی کو بھی دور کیا