مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 632

مسیحی انفاس — Page 354

۳۵۴ میں توحید بھی موجود ہے اور احکام عبادت اور حقوق عباد کا بھی ذکر ہے۔پھر کونسی نئی قرآن توحید اور احکام چیز ہے جو قرآن کے ذریعہ بیان کی گئی۔مگر یہ دھو کہ اسی کو لگے گا جس نے کلام الہی میں میں نئی چیز کونسی لایا جو ی کی میں کیا اور کبھی تذیر نہیں کیا۔واضح ہو کہ الہیات کا بہت سا حصہ ایسا ہے کہ توریت میں اس کا نام و نشان نہیں۔چنانچہ توریت میں توحید کے باریک مراتب کا کہیں ذکر نہیں۔قرآن ہم پر ظاہر فرماتا ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ ہم بتوں اور انسانوں اور حیوانوں اور عناصر اور اجرام فلکی اور شیاطین کی پرستش سے باز رہیں بلکہ توحید تین درجہ پر منقسم ہے۔درجہ اول: عوام کے لئے یعنی ان کے لئے جو خدا تعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔دوسرا درجہ : خواص کے لئے یعنی ان کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ قرب الہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔اور تیسرا درجہ : خواص الخواص کے لئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں۔اول مرتبہ توحید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے اور ہر یک چیز جو محدود اور مخلوق معلوم ہوتی ہے خواہ زمین پر ہے خواہ آسمان پر اس کی پرستش سے کنارہ کیا جائے۔دوسرا مرتبہ توحید کا یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے کاروبار میں موثر حقیقی خدا تعالیٰ کو سمجھا جائے اور اسباب پر اتنا زور نہ دیا جائے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے شریک ٹھہر جائیں۔مثلاً یہ کہنا کہ زید نہ ہوتا تو میرا یہ نقصان ہوتا اور بکر نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا۔اگر یہ کلمات اس نیت سے کہے جائیں کہ جس سے حقیقی طور پر زید و بکر کو کچھ چیز سمجھا جائے تو یہ بھی شرک ہے۔تیسری قسم توحید کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھانا اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرنا۔یہ توحید توریت میں کہاں ہے۔ایسا ہی توریت میں بہشت اور دوزخ کا کچھ ذکر نہیں پایا جاتا۔اور شاید کہیں کہیں اشارات ہوں۔ایسا ہی توریت میں خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کا کہیں پورے طور پر ذکر نہیں۔اگر توریت میں کوئی ایسی سورۃ ہوتی جیسا کہ قرآن شریف میں قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رُک جاتے۔ایسا ہی توریت نے حقوق کے