مسیحی انفاس — Page 349
۳۴۹ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مخالفوں کو ذلیل کرنے کے لئے اور اس راقم کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ جو سرینگر میں محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام کی قبر ہے وہ در حقیقت بلا شک و شبہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔مرہم عیسی جس پر طلب کی ہزار کتاب بلکہ اس سے زیادہ گواہی دے رہی ہے اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ جناب مسیح علیہ السّلام نے صلیب سے نجات پائی تھی۔وہ ہر گز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔اس مرہم کی تفہ میں کھلی کھلی عبارتوں میں طبیبوں نے لکھا ہے یہ مرہم ضربه" سقطہ اور ہر قسم کے زخم کیلئے بنائی جاتی ہے۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار ہوئی تھی یعنی ان زخموں کے لئے جو آپ کے ہاتھوں اور پیروں پر تھے۔اس مرہم کے ثبوت میں ا مرہم کے ثبوت میں میرے پاس بعض وہ طبی کتابیں بھی ہیں جو قریباً سات سو برس کی قلمی لکھی ہوئی ہیں۔یہ طبیب صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ عیسائی یہودی اور مجوسی بھی ہیں جن کی کتابیں اب تک موجود ہیں۔قیصر روم تے کتب خانہ میں بھی رومی زبان میں ایک قرابا دین تھی اور واقعہ صلیب سے دو سو برس گزرنے سے پہلے ہی اکثر کتابیں دنیا میں شائع ہو چکی تھیں۔پس بنیاد اس مسئلہ کی کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اول خود انجیلوں سے پیدا ہوئی ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اور پھر مرہم عیسی نے علمی تحقیقات کے رنگ میں اس ثبوت کو دکھلا دیا۔پھر بعد اس کے وہ انجیل جو حال میں تبت سے دستیاب ہوئی اس نے صاف گواہی دی کہ حضرت عیسی ضرور ہندوستان کے ملک میں آئے ہیں۔اس کے بعد اور بہت سی کتابوں سے اس واقعہ کا پتہ لگا اور کشمیر اعظمی جو قریباً دو سو برس کی تصنیف ہے۔اس کے صفحہ ۸۲ میں لکھا ہے کہ ”سید نصیر الدین کے مزار کے پاس جو دوسری قبر ہے عام خیال ہے کہ یہ ایک پیغمبر کی قبر ہے۔" اور پھر یہی مورخ اس صفحہ میں لکھتا ہے کہ ” ایک شہزادہ کشمیر میں کسی اور ملک سے آیا تھا اور زہد اور تقوی اور ریاضت اور عبادت میں وہ کامل درجہ پر تھا وہی خدا کی طرف سے نبی ہوا۔اور کشمیر میں آکر کشمیریوں کی دعوت میں مشغول ہوا جس کا نام یوز آسف ہے اور اکثر صاحب کشف خصوصاً ملاً عنایت اللہ جو راقم کا مرشد ہے فرما گئے ہیں کہ اس قبر سے برکات نبوت ظاہر ہو رہے ہیں۔" یہ عبارت تاریخ اعظمی کی فارسی میں ہے۔جس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔اور محمدن اینگلو اور مینٹل کالج میگزین ستمبر ۱۸۹۶ء اور اکتوبر ۱۸۹۶ء میں تقریب