مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 632

مسیحی انفاس — Page 340

کہ حضرت عیسی کے مصلوب ہونے پر یہود و نصاری کا اتفاق ہے اور اب ڈاکٹر صاحب کے قول سے معلوم ہوا کہ چین کے یہودی اس قول سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کا یہ مذہب نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ سولی پر مر گئے۔اور ڈاکٹر صاحب نے جو کشمیریوں کے یہودی الاصل ہونے پر دلائل لکھے ہیں۔یہی دلائل ایک غور کرنے والی نگاہ میں ہمارے متذکرہ بالا بیان پر شواہد بینہ ہیں۔یہ واقعہ مذکورہ جو حضرت موسیٰ کشمیر میں آئے تھے چنانچہ ان کی قبر بھی شہر سے قریبا تین میل کے فاصلہ پر ہے۔صاف دلالت کرتا ہے کہ موسیٰ سے مراد عیسی ہی ہے کیونکہ یہ بات قریب قیاس ہے کہ جب کشمیر کے یہودیوں میں اس قدر تغیر واقع ہوئے کہ وہ بت پرست ہو گئے اور پھر مدت کے بعد مسلمان ہو گئے تو کم علمی اور لاپروائی کی وجہ سے عیسی کی جگہ موسیٰ انہیں یاد رہ گیا ورنہ حضرت موسیٰ تو موافق تصریح توریت کے حورب کی سرزمین میں اس سفر میں فوت ہو گئے تھے جو مصر سے کنعان کی طرف بنی اسرائیل نے کیا تھا اور حورب کی ایک وادی میں بیت فنور کے مقابل دفن کئے گئے۔دیکھو استثناء ۳۴ باب درس ۵۔ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان کا لفظ بھی رفتہ رفتہ بجائے عیسی کے لفظ کے مستعمل ہو گیا۔ممکن ہے کہ حضرت عیسی نے پہاڑ پر عبادت کے لئے کوئی مکان بنایا ہو کیونکہ یہ شاذ و نادر ہے کہ کوئی بات بغیر کسی اصل صحیح کے محض بے بنیاد افتراء کے طور پر مشہور ہو جائے۔ہاں یہ غلطی قریب قیاس ہے کہ بجائے عیسی کے عوام کو جو پچھلی قومیں تھیں سلیمان یا د رہ گیا ہو اور اس قدر غلطی تعجب کی جگہ نہیں چونکہ یہ تین نبی ایک ہی خاندان میں سے ہیں۔اس ہے لئے یہ غلطیاں کسی اتفاقی مسامحت سے ظہور میں آگئیں۔تبت سے کوئی نسخہ انجیل یا بعض عیسوی وصایا کا دستیاب ہونا جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کوئی عجیب بات نہیں ہے ب قرائن قویہ قائم ہیں کہ بعض نبی بنی اسرائیل کے کشمیر میں ضرور آئے گوان کی تعیین نام میں غلطی ہوئی اور ان کی قبر اور مقام بھی اب تک موجود ہے تو کیوں یہ یقین نہ کیا جائے کہ وہ نبی در حقیقت عیسی ہی تھا جو تول کشمیر میں آیا اور پھر تبت کا بھی سپر کیا اور کچھ بعید نہیں کہ اس ملک کے لوگوں کے لئے وصیتیں بھی لکھتی ہوں اور آخر کشمیر میں واپس آکر فوت ہو گئے ہوں۔چنانچہ سرد ملک کا آدمی سرد ملک کو ہی پسند کرتا ہے اس لئے فراست صحیحہ قبول کرتی ہے کہ حضرت عیسی کنعان کے ملک کو چھوڑ کر ضرور کشمیر پہنچے ہوں گے۔میرے خیال میں کسی کو اس میں کلام نہ ہو گا کہ خطہ کشمیر کو خطہ ۳۴۰