مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 632

مسیحی انفاس — Page 339

۳۳۹ ۲۳۰ متفرق شہادتیں ڈاکٹر بر نیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ "کشمیر میں یہودیت کی بہت سی علامتیں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ پیر پنجال سے گزر کر جب میں اس ملک میں داخل ہوا تو دیہات کے باشندوں کی صورتیں یہود کی سی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ان کی صورتیں اور ان کے طور طریق اور وہ ناقابل بیان خصوصیتیں جن سے ایک سیاح مختلف اقوام کے لوگوں کی خود بخود شناخت اور تمیز کر سکتا ہے۔سب یہودیوں کے پورانی قوم کیسی معلوم ہوتی تھیں۔میری بات کو آپ محض خیالی ہی تصور نہ فرمائیے گا۔ان دیہاتوں کے یہودی نما ہونے کی نسبت ہمارے پادری صاحبان اور اور بہت سے فرنگستانیوں نے بھی میرے کشمیر جانے سے بہت عرصہ پہلے ایسا ہی لکھا ہے۔دوسری علامت یہ ہے کہ اس شہر کے باشندے باوجود یکہ تمام مسلمان ہیں مگر پھر بھی ان میں سے اکثر کا نام موسیٰ ہے۔تیسرے یہاں یہ عام روایت ہے کہ حضرت سلیمان اس ملک آئے تھے۔چوتھے یہاں کے لوگوں کا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ نے شہر کشمیر ہی میں وفات پائی تھی اور ان کا مزار شہر سے قریب تین میل کے ہے۔پانچویں عموماً یہاں سب لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اونچے پہاڑ پر جو ایک مختصر اور نہایت پورا نا مکان نظر آتا ہے اس کو حضرت سلیمان نے تعمیر کرایا تھا۔اور اسی سبب سے اس کو آج تک تخت سلیمان کہتے ہیں۔سو میں اس بات سے انکار کرنا نہیں چاہتا کہ یہودی لوگ کشمیر میں آکر بسے ہوں۔پہلے رفتہ رفتہ تنزل کرتے کرتے بت پرست بن گئے ہوں گے اور پھر آخر اور بت پرستوں کی طرح مذہب اسلام کی طرف مائل ہو گئے ہوں گے۔" یہ رائے ڈاکٹر بر نیر کی ہے۔جو انہوں نے اپنی کتاب سیر و سیاحت میں لکھی ہے۔مگر اسی بحث میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”غالباً اسی قوم کے لوگ پیکن میں موجود ہیں جو مذہب موسوی کے پابند ہیں اور ان کے پاس توریت اور دوسری کتابیں بھی ہیں۔مگر حضرت عیسیٰ کی وفات یعنی مصلوب ہونے کا حال ان لوگوں کو " معلوم ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا یہ فقرہ یا در رکھنے کے لائق ہے کیونکہ بعض نادان عیسائیوں کا یہ گمان ہے