مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 632

مسیحی انفاس — Page 314

اور اس میں کوئی بھی شک نہیں کر سکتا کہ وہ اخلاقی تعلیمیں اور وہ روحانی طریقے - عیسائی مورخ اس بات کو مانتے ہیں کہ انجیل کی پہاڑی تعلیم اور دوسرے حصوں کی تعلیم جو اخلاقی امور پر مبنی ہے یہ تمام تعلیم وہی ہے جس کو گوتم بدھہ حضرت مسیح سے پانسو برس پہلے دنیا میں رائج کر چکا تھا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بدھ صرف اخلاقی تعلیماں کی سکھلانے والا نہیں تھا بلکہ وہ اور بھی بڑی بڑی سچائیوں کا سکھلانے والا تھا۔اور اُن کی رائے میں بدھ کا نام جو ایشیا کا نور رکھا گیا وہ مین مناسب ہے۔اب بدھ کی پیش گوئی کے موافق حضرت مسیح پانسو برس کے بعد ظاہر ہوئے اور حسب اقرار اکثر علماء عیسائیوں کے اُن کی اخلاقی تعلیم بعینہ بدھ کی تعلیم تھی۔تو اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ بدھ کے رنگ پر ظہور فرما ہوئے تھے۔اور کتاب اولڈن برگ میں بحوالہ بدتہ کی کتاب لگا وتی سنتا کے لکھا ہے کہ بدھ کے معتقد آئندہ زمانہ کی اُمید پر ہمیشہ اپنے تئیں تسلی دیتے تھے کہ و ہتیا کے شاگرد بنگر نجات کی خوشحالی حاصل کرینگے یعنے ان کو یقین تھا کہ متیآبان میں آئے گا اور وہ اسکے ذریعہ۔نجات پائیں گے۔کیونکہ جن لفظوں میں بدھ نے ان کو منی کی امید دی تھی وہ لفظ صریح دلالت کرتے تھے کہ اس کے شاگرد متیا کو پائیں گے۔اب کتاب مذکور کے اس بیان سے بخوبی یہ بات دلی یقین کو پیدا کرتی ہے کہ خدا نے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دونوں طرف سے اسباب پیدا کر دیئے تھے لینے ایک طرف تو حضرت مسیح بوجہ اپنے اس نام کے جو پیدائیش با ہے آیت ، اسے سمجھا جاتا ہے۔یعنے است جس کا ترجمہ ہے جماعت کو اکٹھا کرنے والا۔یہ ضروری تھا کہ اس ملک کی طرف آتے جس میں یہودی آکر آباد ہوئے تھے۔اور دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ حسب منشاء بُدھ کی پیش گوئی کے بدھ کے معتقد آپ کو دیکھتے ۳۱۴