مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 632

مسیحی انفاس — Page 307

دل کو تزلزل نہ ہوا اور شیطان اپنے ارادوں میں نام اور ہا اور شیطان نے اور اور طریقے بھی اختیار کئے مگر بڑھ کے استقلال کے سامنے اُس کی کچھ پیش نہ گئی۔اور بدھ اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب کو طے کر تا گیا اور آخر کار ایک لمبی رات کے بعد یعنے سخت آزمائیشوں اور دیر پا امتحانوں کے پیچھے بدھ نے اپنے دشمن یعنے شیطان کو مغلوب کیا اور سچے علم کی روشنی اسپر کھل گئی اور صبح ہوتے ہی یعنے امتحان سے فراغت پاتے ہی اسکو تمام باتوں کا علم ہو گیا اور جس صبح کو یہ بڑی جنگ ختم ہوئی وہ بدھ مذہب کی پیدائش کا دن تھا۔اُس وقت گوتم کی عمر پینتیس برس کی تھی اور اس وقت اُس کو بدھ یعنے اور اور روشنی کا خطاب ملا۔اور جس درخت کے نیچے وہ اس وقت بیٹھا ہوا تھا وہ درخت نور کے درخت کے نام سے مشہور ہوگیا۔اب انجیل کھول کر دیکھو کہ ی شیطان کا امتحان میں سے بدعہ آزمایا گیا کس قدر حضرت مسیح کے امتحان سے مشابہ ہے یہانتک کہ امتحان کے وقت میں جو حضرت مسیح کی عمر تھی قریباً وہی بدھ کی عمر تھی۔اور جیسا کہ بدھ کی کتابوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطان درحقیقت انسان کی طرح مجسم ہو کر لوگوں کے دیکھتے ہوئے بدھ کے پاس نہیں آیا بلکہ وہ ایک خاص نظارہ تھا جو بدھ کی آنکھوں تک ہی محدود تھا اور شیطان کی گفت گو شیطانی الہام تھی عینی شیطان اپنے نظارہ کے ساتھ بدھ کے دل میں یہ الفقار بھی کرتا تھا کہ یہ طریق چھوڑ دینا چاہیئے اور میرے حکم کی پیری کرنی چاہیئے۔میں تجھے دنیا کی تمام دولتیں دید ونگا۔اسی طرح عیسائی محقق مانتے ہیں کہ شیطان جو حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس آیا تھا وہ بھی اس طرح نہیں آیا تھا کہ یہودیوں کے سامنے انسان کی طرح اُن کی گلیوں کو بچوں سے ہو کر اپنی مجسم حالت میں گزرتا ہوا حضرت مسیح کو آملا ہو۔اور انسانوں کی طرح ایسی گفت گو کی ہو کہ حاضرین نے بھی سنی ہو بلکہ یہ ملاقات بھی ایک کشفی رنگ میں ملاقات تھی جو حضرت مسیح کی آنکھوں تک محدود تھی اور باتیں بھی الہامی رنگ میں تھیں۔یعنے شیطان نے جیسا کہ اُس کا قدیم سے طریق ہے