مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 632

مسیحی انفاس — Page 297

۲۹۷ لگی ہوگی کسی قوم کی تاریخ سے ثابت نہیں۔اس لیئے ایسا خیال کرنا عمدا سچائی کی راہ کو چھوڑنا ہے۔یہ ثبوت ایسا نہیں ہے کہ اس قسم کے بیہودہ عذرات سے رو ہو سکے۔اب تک بعض کتابیں بھی موجود ہیں جو مصنفوں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔چنانچہ ایک پرانا قلمی نسخه قانون بوعلی سینا کا اُسی زمانہ کا لکھا ہوا میرے پاس بھی موجود ہے۔تو پھر یہ صریح ظلم اور سچائی کا خون کرنا ہے کہ ایسے روشن ثبوت کو یونہی پھینک دیا جائے۔بار بار اس بات میں غور کرو اور خوب غور کرو کہ کیونکر یہ کتابیں اب تک یہودیوں اور مجوسیوں اور عیسائیوں اور عربوں اور فارسیوں اور یونانیوں اور رومیوں اور اہل جرمن اور فرانسیسیوں اور دوسرے یورپ کے ملکوں اور ایشیا کے پرانے کتب خانوں میں موجود ہیں اور کیا یہ لائق ہے کہ ہم ایسے ثبوت سے جس کی روشنی سے انکار کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں یو نہی منہ پھیر لیں؟ اگر یہ کتابیں صرف اہل اسلام کی تالیف اور اہل اسلام کے ہی ہاتھ میں ہوئیں تو شاید کوئی جلد باز به خیال کرسکتا کہ مسلمانوں نے عیسائی عقیدہ پر حملہ کرنے کیلئے جعلی طور پر یہ بائی اپنی کتابوں میں لکھدی ہیں۔مگر یہ خیال علاوہ ان وجوہ کے جو ہم بعد میں لکھتے ہیں اس وجہ سے بھی غلط تھا کہ ایسے جل کے مسلمان کسی طور سے مرتکب نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ عیسائیوں کی طرح مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد بلا توقف آسمان پر چلے گئے۔اور سلمان تو اس بات کے قائل بھی نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پرکھینچ گیا یا صلیب پر سے کہ کوما اُن کو تخم پہنچے پھر وہ گڈا ایسی جعل سازی کیونکر کر سکتے تھے جو انکے عقیدہ کے تھی۔مخالف تھی۔ماسوا اس کے ابھی اسلام کا دنیا میں وجود بھی نہیں تھا جب کہ رومی و یونانی وغیرہ زبانوں میں ایسی قرا باد نہیں لکھی گئیں اور کروڑہا لوگوں میں مشہور کی گئیں جن میں مرہم عیسی کا نسخہ موجود تھا۔اور ساتھ ہی یہ تشریح بھی موجود تھ تھی کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بنائی تھی۔اور یہ قومیں