مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 632

مسیحی انفاس — Page 298

یعنی یہودی و عیسائی و اہل اسلام و مجوسی مذہبی طور پر ایک دوسرے کے دشمن تھے۔پس ان سب کا اس مرہم کو اپنی کتابوں میں درج کرتا بلکہ درج کرنے کے وقت اپنے مذہبی عقیدوں کی بھی پروا نہ رکھنا صاف اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مر ہم ایسا واقعہ مشہورہ تھا کہ کوئی فرقہ اور کوئی قوم اس سے منکر نہ ہوسکی۔ہاں جب تک وہ وقت نہ آیا جو سیح موعود کے ظہور کا وقت تھا اسوقت تک ان تمام قوموں کے ذہن کو اس طرف التفات نہیں ہوئی کہ نینہ جوصدرہا کتابوں میں درج اور مختلف قوموں کے کروڑہا انسانوں میں شہرت یاب ہو چکا ہے ایسی کوئی تاریخی فائدہ حاصل کریں۔پس اس جگہ ہم بڑا اسکے کچھ نہیں ہوسکتے کہ یہ خدا کا ارادہ تھا کہ وہ یکتا ہوا حربہ اور وہ حقیقت نما بریان که جو صلیبی اعتقاد کا خاتمہ کرے اس کی نسبت ابتدا سے یہی مقدر تھا کہ مسیح موعود کے ذریعہ سے دنیا میں ظاہر ہو۔کیونکہ خدا کے پاک نبی نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ صلیبی مذہب نہ گھٹے گا اور نہ اس کی ترقی میں فتور آئیگا جب تک کہ مسیح موعود دنیا میں ظاہر نہ ہو۔اور وہی ہے جو کسر صلیب اس کے ہاتھ پر ہوگی۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۶ تا ۶۴ نیز دیکھیں ست بچن۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۱ تا ۳۰۸ و راز حقیقت روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۵۸ تا ۱۶۱ - حاشیه * ۲۹۸