مسیحی انفاس — Page 296
کچھ زیادہ۔لیکن کروڑہا انسانوں میں یہ کتابیں اور ان کے مولف شہرت یافتہ ہیں۔اب ایسا شخص علم تاریخ کا دشمن ہوگا جو اس بدیہی اور روشن اور پر زور ثبوت کو قبول نہ کرے اور کیا یہ تحکم پیش جاسکتا ہے کہ اس قدر عظیم الشان ثبوت کو ہم نظرانداز کریں اور کیا ہم ایسے بھاری ثبوت پر بدگمانی کرسکتے ہیں جو یورپ اور ایشیا پر دائرہ کی طرح محیط ہو گیا ہے۔اور جو یہودیوں اور عیسائیوں اور مجوسیوں اور مسلمانوں کے نامی فلاسفروں کی شہادتوں سے پیدا ہوا ہے۔اب اسے محققوں کی روحو ! اس اعلیٰ ثبوت کی طرف دوڑو۔اور اسے منصف مزاجو ! اس معامہ میں ذرا غور کرو۔کیا ایسا چمکتا ہوا ثبوت اس لائق ہے کہ اُس پر توجہ نہ کی جائے ؟ کیا مناسب ہے کہ ہم اس آفتاب صداقت سے روشنی حاصل نہ کریں ؟ یہ وہم بالکل لغو اور بیہودہ ہے کہ ملک ہے که حضرت عیسی علیه السلام کو نبوت کے زمانہ سے پہلے چوٹیں لگی ہوں یا نبوت کے زمانہ کی ہی چوٹیں ہوں مگر وہ صلیب کی نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ہاتھ اور پیر زخمی ہو گئے ہوں۔مثلاوہ کسی کو ٹھے پر سے گر گئے ہوں اور اس صدمہ کے لئے یہ رم طیارکی گئی ہو، کیونکہ نبوت کے زمانہ سے پہلے سواری نہ تھے اور اس مرتہم میں حواریوں کا ذکر ہے۔شیخا کا لفظ جو یونانی ہے جو باراں کو کہتے ہیں۔ان کتابوں میں اب تک موجود ہے۔اور نیز نبوت کے زمانہ سے پہلے حضرت مسیح کی کوئی عظمت تسلیم نہیں کی گئی تھی تا کی یاد گار روا رکھی جاتی اور نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھا اور اس مدت میں کوئی واقعہ مربہ یا سقطہ کا بجز واقعہ صلیہ کے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت تاریخوں سے ثابت نہیں۔اور اگر کسی کو بد خیال ہو کہ ممکن ہے کہ ایسی چوٹیں کسی اور سبب سے حضرت عیسی علیہ السلام کو لگی ہوں تو یہ ثبوت اس کے ذمہ ہے۔کیونکہ ہم جس واقعہ کو پیش کرتے ہیں وہ ایک ایسا ثابت شدہ اور مانا ہوا واقعہ ہے کہ نہ یہودیوں کو اس سے انکار ہے اور نہ عیسائیوں کو یعنے صلیب کا واقعہ۔لیکن یہ خیال کہ کسی اور سبب سے کوئی چوٹ حضرت مسیح کو ۲۹۶